چین اور امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں مقابلہ

   

بیجنگ : مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں حالیہ پیش رفتوں سے امریکہ اور چین کے درمیان فوجوں میں اس نئی ٹیکنالوجی کو مربوط کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی ایک نئی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کی ترجیحات میں ایسے ہتھیاروں کی تیاری شامل ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر ہدف تک اپنا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ امریکہ اور چین دونوں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیوائسز تیار کررہے ہیں جو سیٹلائٹ کی تصاویر سے اہداف کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔چینی میڈیا کے مطابق چائنا نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کے حالیہ تجربات میں ایک تجربہ کیا گیا جس میں درجنوں ڈرونز کے جھنڈ نے جیمنگ ٹیسٹ سگنلز کو کنٹرول کرلیا۔امریکہ نے اپریل میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ مشترکہ مشقیں کیں تاکہ زمینی گاڑیوں جیسے ٹینکوں، خود سے چلنے والی بندوقوں اور بکتر بند گاڑیوں پر حملوں کو ٹریک کرنے اور ان کی نقل کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے چلنے والے ڈرونز کا استعمال کیا جا سکے۔اخبار کے مطابق منتظمین نے کہا کہ انہوں نے AI پر مبنی رہ نمائی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرکے اس کوبھیج کر پرواز میں پریڈ کو ری ڈائریکٹ کیا۔