چین اپنے ہاں ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کا خواہاں

   

بیجنگ : معمر افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی اور افرادی قوت میں کمی کے پیش نظر چینی حکومت نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں بتدریج اضافہ کا اعلان کر دیا۔ ریٹائرمنٹ اصلاحات کے تحت لوگوں کے پاس یہ اختیار موجود ہو گا کہ وہ کب ریٹائر ہوں گے۔ چین میں ریٹائرمنٹ کی موجودہ عمر دیگر ممالک کی مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ مجموعی آبادی میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی شرح اور ریٹائرمنٹ کی عمر کم ہونے کے باعث چین کے بہت سے صوبے اپنے پنشن بجٹ میں پہلے ہی خسارے کا سامنا کر رہے ہیں۔ سماجی ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات فوری طور پر ضروری ہیں کیونکہ چین میں متوقع عمر 1960 میں تقریباً 41 سال سے بڑھ کر 2021 میں امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 78 سال تک پہنچ چکی ہے۔ یہ 2050 تک 80 سال سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین میں 2023 میں بھی بچوں کی پیدائش کی شرح میں مسلسل دوسرے سال ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ اتوار کے روز شائع کیے جانے والے اس اہم پالیسی دستاویز میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور شرح پیدائش میں کمی کے مسائل سے نمٹنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ چینی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اِن اِصلاحات کا نفاذ محتاط اور مرحلہ وار طریقہ سے 2029 تک مکمل کیا جائے گا۔