سری نگر: وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے مسلسل نیچے درج ہونے سے شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کچھ حصے صبح کے وقت منجمد ہوتے ہیں۔وادی میں کڑاکے کی ٹھںد سے جہاں صبح اور شام کے وقت لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا امر محال بن گیا ہے وہیں جھیل ڈل میں شکارہ والوں کو بھی گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایک شکارہ مالک نے بتایا کہ موسم خشک رہنے کی وجہ سے سردی کا زور تیز تر ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جھیل ڈل کا پانی جم جانے سے ہمیں گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس سے شکاروں کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پانی جم جانے سے جھیل ڈل کے دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہونے والے سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں برف کو توڑ کر شکاروں کو نکالنا پڑتا ہے ۔ایک اور شکارہ مالک نے بتایا کہ اگر برف باری یا بارشیں ہوں گی تو سردی کی شدت میں کمی واقع ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جھیل کے گندہ ہونے سے اور بھی مشکلات پیدا ہوئے ہیں۔دریں اثنا جھیل ڈل سمیت وادی کے سیاحتی مقامات پر ٹھنڈ سے لطف اندوز ہونے کے لئے سیاحوں کی بھاری تعداد موجود ہے ۔جہاں ایک طرف دن میں ٹھنڈ کی شدت میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ہی جھیل ڈل میں غیر مقامی سیاحوں کو شکارہ سواری سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے وہیں وادی کے مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ، پہلگام وغیرہ میں بھی سیاح کڑاکے کی ٹھنڈ سے وہاں کے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔