ڈینگو کیسیس میں اضافہ، ریاست میں ایس ڈی پی کی قلت کا سامنا

   

حیدرآباد ۔9 جولائی (سیاست نیوز) ریاست میں ڈینگو کیسیس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ شہر میں اور اضلاع جیسے کریم نگر اور ورنگل میں گورنمنٹ بلڈ بینکس میں سنگل ڈونر پلیٹلیٹس (ایس ڈی پی) فراہم کرنے کیلئے پورا انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ لائسینسڈ ہونے کے باوجود کئی دواخانوں بشمول گاندھی ہاسپٹل اور ایم این جے میں ایس ڈی پی کے حصول کیلئے پروسیجر کیلئے ضروری مشینری اور ٹیکنیشنس نہیں ہیں۔ تاہم عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں مشینری ہے جبکہ وہاں اس پروسیجر کیلئے درکار کٹس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ تلنگانہ میں گذشتہ ماہ سے ڈینگو اور کوویڈ۔19 کے کیسیس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور مانسون سیزن میں ڈینگو کیسیس میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ ڈینگو کے مریض میں پلیٹلیٹس کی کمی سے خون کا اخراج ہوتا ہے جو ایک خطرناک قسم کی پیچیدگی کی حالت ہوتی ہے۔ اس طرح کے کیسیس میں ایس ڈی پی سے مریض کی مدد ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر کرونا منڈپو نے کہا کہ ’’ایس ڈی پی کی ضرورت خاص کر بہت زیادہ نہیں ہوتی ہے تاہم اس سیزن میں اس میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔ گاندھی ہاسپٹل کے ایک اسٹاف ممبر کے مطابق اس دواخانہ میں مؤثر ٹیکنیشنس کی کمی کے باعث ایس ڈی پی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پہلے اس دواخانہ میں 16 ٹیکنیشنس ہوا کرتے تھے جو بہت زیادہ مقدار میں خون جمع کرتے تھے اب صرف چھ ٹیکنیشنس ہی ہیں‘‘۔ اسی طرح ایم این جے کینسر ہاسپٹل میں ایک نئے ایڈوانسڈ مشین کا انتظار ہورہا ہے کیونکہ پرانی مشینری کیلئے موزوں کٹس کی تیاری اب ہندوستان میں رک گئی ہے۔ فی الوقت دواخانہ عثمانیہ میں صرف تین کٹس دستیاب ہیں۔ ایک میڈیکل آفیسر نے کہا کہ ’’ہم نے ایک ماہ قبل 20 کٹس کا آرڈر دیا تھا دس دن کے بعد دو اور کل ایک کٹ آیا ہے‘‘۔
کریم نگر ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں ایک سیزن میں 100 کی ضرورت کے مقابل جملہ 15 کٹس دستیاب ہیں۔ ایم جی ایم ہاسپٹل ورنگل میں بھی ناقص انفراسٹرکچر کے باعث اس سہولت کا فقدان ہے۔