ژی جن پنگ کا دورہ ہندوستان

   

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہے
چین کے صدر ژی جن پنگ ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ہندوستان میں ہونے والی برکس چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے چینی صدر کی شرکت کی توثی کردی گی ہے ۔ پہلے تو آخری وقتوں تک اس معاملے میں تعطل برقرار تھا اور یہ واضح نہیںہوپایا تھا کہ ژی جن پنگ اس چوٹی کانفرنس کیلئے ہندوستان آئیں گے یا نہیں۔ تاہم آج توثیق ہوگئی ہے کہ وہ ہندوستان کا دورہ کریں گے اور برکس چوٹی کانفرنس میںشرکت کریں گی ۔ حالانکہ ژی جن پنگ برکس چوٹی کانفرنس کیلئے یہ دورہ کرنے والے ہیں تاہم ان کی وزیر اعظم نریندرمودی کے ساتھ باہمی ملاقات اور بات چیت بھی ہونے کا امکان ہے ۔ اس موقع سے ہندوستان کو فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر ارونا چل پردیش کے تعلق سے ہندوستان کو اپنے موقف کو دوٹوک انداز میں چینی صدر کے سامنے پیش کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہئے ۔ دبے الفاظ میں اور بالواسطہ طور پر بات کرنے کی بجائے راست اور دوٹوک انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے اوریہ واضح کردیا جانا چاہئے کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر ہندوستان کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا چاہے سامنے چین ہو یا دنیا کی کوئی اور طاقت ہی کیوں نہ آجائے ۔ ہندوستان اپنی سرزمین سے کسی قیمت پر دستبردار نہیںہوسکتا اور نہ ہی وہ کسی اور اپنی سرزمین میں گھس آنے کی اجازت دے سکتا ہے ۔ جہاں تک چین کا سوال ہے تو یہ ایک سے زائد مواقع پر واضح ہوچکا ہے کہ چین اروناچل پردیش میں کئی سو کیلومیٹر تک گھس آیا ہے اور وہ یہاں دفاعی تنصیبات بھی قائم کرنے لگا ہے ۔ وہ فضائی پٹی بنا رہا ہے اور سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ سٹیلائیٹ تصاویر کے ذریعہ میڈیا میں ایک سے زائد مواقع پر اس کو واضح بھی کیا گیا ہے لیکن مرکزی حکومت اس تعلق سے صورتحال کو واضح کرنے اور تمام تفصیلات ملک کے سامنے پیش کرنے سے گریز ہی کرتی رہی ہے ۔ حکومت کے اس پس و پیش سے اس کے عزائم اور حوصلے پر سوال پیدا ہونے لگے ہیں۔
وقفہ وقفہ سے اطلاعات آتی ہیں کہ چین نے کچھ نئی تعمیرات کا آغاز کیا ہے ۔ وہاں کچھ روڈز بنائی جا رہی ہیں۔ ہوائی پٹی کی تعمیر ہو رہی ہے اور وہ اپنے قبضہ کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کی کوشش میں ہی لگا ہوا ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس پر ہندوستان کو دو ٹوک اور مضبوط موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم اپنی سرحدات کے معاملے میں کسی طرح کی مصلحت کا شکار نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کسی بھی طاقت کو ہماری سرزمین پر قبضہ کی اجازت دے سکتے ہیں۔ حکومت کو اس معاملے میں پس و پیش اور ٹال مٹول کی پالیسی کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو یہ بات چینی صدرپر واضح کردینے کی ضرورت ہے کہ ہم چین کے قبضہ اور اس کی دوسری سرگرمیوںکو قطعی برداشت نہیں کریں گے ۔ جس طرح نریندر مودی نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے کہا تھا کہ چین کو آنکھیں لال کرتے ہوئے جواب دیا جانا چاہئے ۔ وزارت عظمی کے عہدہ پر فائز ہوئے نریندر مودی کو 12 سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے ابھی تک ہم نے چین کو لال آنکھیں نہیں دکھائی ہیں اور صرف ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا ہے ۔ سٹیلائیٹ کے ذریعہ تصاویر سامنے آنے کے باوجود حکومت کی جانب سے چین کی کسی بھی در اندازی اور مداخلت سے انکار کیا جاتا رہا ہے ۔ صورتحال اور حقائق سے چشم پوشی ہمارے مفادات کیلئے اچھی نہیں ہوسکتی ۔ ہمیں حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا سدباب کرنا چاہئے ۔
اب جبکہ صدر ژی جن پنگ ہندوستان آنے کی توثیق ہوچکی ہے اور باہمی ملاقات کا بھی امکان ہے کہ تو دیگر تمام مسائل کے ساتھ ہمیں اس مسئلہ پر بھی اپنا موقف واضح کرنا چاہئے اور سرحدی تنازعہ کو حل کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہماری سرحدات کا تحفظ ہی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ ہم کسی بھی طاقت سے اپنی سرحدات کے تحفظ کے مسئلہ پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے اور نہ ہمیںکرنا چاہئے ۔ اس تنازعہ کی مستقل یکسوئی کیلئے چینی صدر کے ساتھ واضح انداز میں بات چیت کرنے کی ضرورت ہے ۔