اردو طبقہ میں مایوسی ،حکومت کے خلاف اقلیتوں میں غم و غصہ ، سوتیلا سلوک کا الزام
۔کاغذ نگر/22 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کاغذ نگر میں ریاستی حکومت کی جانب سے پانچ کروڑ روپیوں کی لاگت سے 30 بستروں والا سرکاری ہاسپیٹل تعمیر کیا گیا، تاکہ مقامی ہندو مسلم سکھ عیسائی طبقے کے لوگ دوا خانے اور میڈیکل کی سہولت سے استفادہ کرسکے، اور ریاستی وزیرصحت ٹی ہریش راو، ریاست وزیرے جنگلات اے اندرا کرن ریڈی، اور وزیر اگریکلچر کے ہاتھوں افتتاح عمل میں لایا گیا، گورنمنٹ ہاسپٹل کے افتتاحی پروگرام سے قبل گورنمنٹ ہاسپٹل کا سائن بورڈ بہترین انداز میں تلگو زبان میں تحریر کیا گیا، گورنمنٹ ہاسپٹل کے سائن بورڈ پر اردو میں تحریر نہ کیے جانے پر مسلم اقلیتوں اور اردو دان طبقے میں مایوسی کی لہر پائی جاتی ہے، ایک طرف ریاستی حکومت ریاست تلنگانہ میں اردو زبان کو سرکاری طور پر اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا، وہیں دوسری طرف ضلع بی آصف آباد کاغذنگر کے گورنمنٹ ہاسپٹل سائن بورڈ پر اردو زبان میں تحریر نہ کرتے ہوئے اردو والوں کے ساتھ مذاق کیا ہے، اور اردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کی زندہ مثال کاغذنگر گورنمنٹ ہاسپٹل ہے، گورنمنٹ ہاسپٹل کاغذ نگر کے علاوہ اطراف و اکناف کے اردو داں طبقے میں ریاستی حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے،اور کاغذنگر میں گورنمنٹ ہاسپٹل افتتاح ہو کر 24 دن گزرنے کے بعد تا حال بھی گورنمنٹ ہاسپٹل کے سائن بورڈ پر اردو میں تحریر نہ کیے جانے پر مقامی عوام اور اردو داں کے لوگوں میں غم اور مایوسی پائی جاتی ہے، اس سلسلے میں مقامی عوام اور اردو داں طبقے کی جانب سے ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی فلاح و بہبود کی ترقی کے لیے اردو کو ریاست تلنگانہ حکومت کی دوسری زبان کا درجہ سے متعلق بڑے بڑے اعلانات کرنے والے ریاستی حکومت اور ضلع کے انتظامیہ کو چاہیے کہ اردو سے محبت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے کاغذنگر گورنمنٹ ہاسپٹل کے سائن بورڈ پر اردو میں تحریر کریں ورنہ تلنگانہ ریاست کی حکومت کے اردو دوست ہونے کے بڑے بڑے اعلانات جھوٹ ثابت ہوں گے۔