بچانے کوشاں: ڈاکٹر نارائنا
حیدرآباد ۔ 17 فبروری (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے بی جے پی کی جانب سے کالیشورم پراجکٹ کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کے مطالبہ کو بہت بڑا مذاق قرار دیا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کے نارائنا نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی ایک دوسرے سے تال میل کرتے ہوئے کام کررہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان خفیہ اتحاد ہے جس کی وجہ سے بی آر ایس کی قانون ساز کونسل کویتا آزادانہ طور پر گھوم رہی ہے۔ دو سال سے کویتا کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا استفسار کیا۔ 10 سال تک کے سی آر بحیثیت تلنگانہ چیف منسٹر خدمات انجام دی تب بی جے پی نے کالیشورم پراجکٹ کے خلاف سی بی آئی تحقیقات نہیں کرائی۔ بی آر ایس کے اقتدار سے بیدخل ہوتے ہی کے سی آر کو بچانے کیلئے بی جے پی کالیشورم پراجکٹ کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ کے سی آر کی بدعنوانیوں کو سی بی آئی کے حوالے کیا گیا تو کے سی آر پوری طرح محفوظ ہوجائیں گے۔ ایک سازش کے تحت بی جے پی سی بی آئی کا مطالبہ کررہی ہے۔ جیسے ہی کیس سی بی آئی کے حوالے ہوگا، بی جے پی کے سی آر کو اپنے اشاروں پر کام کرائے گی۔ سی پی آئی کے قومی قائد نے کہا کہ دہلی شراب اسکام میں 100 کروڑ روپئے وائی سی پی اور کویتا سے حاصل ہونے کا الزام عائد کیا۔ 100 کروڑ روپئے کے شراب اسکام میں دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر کو گرفتار کیا گیا اور اب چیف منسٹر اروند کجریوال کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 11 کیسس اور ہزاروں کروڑہا روپئے کی بدعنوانیاں کرنے والے چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی بھی آزاد ہونے کا الزام عائد کیا۔ جگن کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ دریافت کی جو بی جے پی کے حامی ہوتے ہیں انہیں جیل نہیں بھیجایا جاتا جو خلاف ہوتے ہیں انہیں جیل میں رکھا جاتا ہے۔ مرغی کاٹنے کی چھری کے کیس میں ملزم پانچ سال سے جیل میں ہے۔ مرکزی حکومت سے نارائنا نے سوال کیا کہ 10 سال کے دوران ملک میں کتنی ملازمتیں فراہم کی گئی۔2