تعلیم ، صحت اور روزگار پر عنقریب ڈیکلریشن ، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔18۔ مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے اندرون 30 دن کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کردیئے جائیں گے ۔ اس ضمن میں کسانوں کو اندیشوں کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ورنگل ڈیکلریشن پر عمل آوری کے لئے کانگریس پارٹی پابند ہے۔ راہول گاندھی نے کسانوں کیلئے مختلف مراعات پر مبنی ڈیکلریشن جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مزدوروں کو انشورنس اسکیم کے دائرہ کے تحت شامل کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کے سی آر پر ریاست کو مقروض کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہر شہری دو لاکھ روپئے سے زائد کا مقروض ہوچکا ہے۔ کے سی آر نے انتخابات کے موقع پر عوام سے جو وعدے کئے تھے، انہیں فراموش کردیا گیا۔ کسانوں کے قرض کی معافی اور فصلوں کی خریدی جیسے وعدے پورے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقروض کسان خودکشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کے سی آر حکومت سے نالاں ہیں اور ریاست میں آئندہ حکومت کانگریس کی رہے گی۔ کے سی آر حکومت نے 7 برسوں میں 5 لاکھ کروڑ روپئے کا قرص حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے سیاسی نقصان کی پرواہ کئے بغیر تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں صحت ، تعلیم اور بیروزگاری جیسے مسائل پر کانگریس ڈکلیریشن جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے نتیجہ میں دھان کو نقصان ہوا ہے اور کسان خریدی مراکز پر منتظر ہیں۔ر
انہوں نے کہا کہ ریاست میں کانگریس کے 60 سالہ دور حکومت میں 69 ہزار کروڑ قرض حاصل کیا گیا تھا لیکن کے سی آر نے 7 برسوں میں 5 لاکھ کروڑ قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کو مقروض کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے گاؤں گاؤں تک ورنگل ڈکلیریشن سے عوام کو واقف کرانے کیلئے باقاعدہ مہم کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر قائدین دیہاتوں کا دورہ کرتے ہوئے کسانوں سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دولتمند افراد کیلئے رعیتو بندھو اسکیم کی ضرورت نہیں۔ کانگریس حکومت دھرانی پورٹل میں ضروری تبدیلیاں کرتے ہوئے اسے کسانوں کیلئے فائدہ مند بنائے گی۔ر