کانگریس قیادت وفادار قائدین کے تجربہ سے استفادہ کرے

   

پارٹی قیادت زمینی سطح پر کارکنوں کی آواز سنے اور اُن کی خدمات کا اعتراف کرے، راہول گاندھی سے خصوصی توجہ کی اپیل
ہنمکنڈہ 24 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کانگریس پارٹی کو ملک بھر میں مزید مضبوط اور منظم بنانے کے لیے پارٹی کے سینئر قائدین، دیرینہ کارکنوں اور وفادار ارکان کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس کے سینئر قائد راہول گاندھی کو پارٹی کی تنظیمی مضبوطی کے لیے چند اہم امور پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ سب سے پہلے 1990 سے قبل سے کانگریس سے وابستہ رہنے والے سینئر قائدین اور کارکنوں سے دوبارہ رابطہ قائم کیا جائے اور پارٹی کے لیے ان کی طویل خدمات، تجربات اور تنظیمی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ برسوں تک پارٹی کے لیے محنت کرنے والے ایسے کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کے تجربات نئی نسل کے کارکنوں کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ پارٹی میں نئے شامل ہونے والے افراد کو فوری طور پر اہم تنظیمی عہدے یا نامزد سرکاری عہدے دینے کے بجائے ایک مناسب مدت تک ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ کم از کم 5 تا 10 سال تک پارٹی کے لیے ان کی خدمات، وفاداری، عوامی رابطے اور تنظیمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہی اہم ذمہ داریاں سونپنے کی پالیسی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس سے دیرینہ کارکنوں میں احساسِ محرومی بھی کم ہوگا اور پارٹی میں محنت و کارکردگی کی اہمیت بڑھے گی۔ تیسرا اہم مسئلہ گروپ بندی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہو سکتا ہے، تاہم ذاتی یا گروہی مفادات کی بنیاد پر ہونے والی مستقل گروپ بندی تنظیم کو کمزور کر سکتی ہے۔ اس لیے پارٹی قیادت کو تنظیم کے اندرونی اختلافات پر مؤثر نظر رکھتے ہوئے کارکنوں اور قائدین کے درمیان باہمی تعاون، نظم و ضبط اور اجتماعی فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔چوتھی اور اہم تجویز خاندانی سیاست کے رجحان کو محدود کرنے سے متعلق ہے۔ پارٹی میں ایک خاندان سے متعدد افراد کو مسلسل سیاسی مواقع دینے کے بجائے “ایک خاندان، ایک فرد” کے اصول پر غور کیا جا سکتا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ وفادار، اہل اور محنتی کارکنوں کو آگے آنے کا موقع ملے۔ پارٹی کے لیے طویل عرصے سے وفاداری، دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے کارکنوں کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل اور عوامی خدمت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ ایسے کارکنوں کی خدمات کا اعتراف، ان کی ستائش اور انہیں مناسب ذمہ داریاں دینا پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ کانگریس اگر اپنی تنظیمی پالیسیوں میں تجربہ کار کارکنوں کے تجربے، نئے کارکنوں کی صلاحیت، میرٹ، وفاداری، عوامی خدمت اور داخلی نظم و ضبط کو ترجیح دے تو پارٹی کے اندر اعتماد کا ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سیاسی جماعت کی مضبوطی صرف انتخابی کامیابی سے نہیں بلکہ اس کی نچلی سطح کی تنظیم، کارکنوں کے اعتماد اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطے سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔ لہٰذا پارٹی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمینی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں کی آواز سنے، ان کی خدمات کا اعتراف کرے اور تنظیمی فیصلوں میں میرٹ و کارکردگی کو بنیادی اہمیت دے۔ یہی اقدامات کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے اور کارکنوں میں اعتماد پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔