میں مجلس کو 10 سال میں سمجھ گیا ۔ اویسی قیادت کو 29 سال کیوں لگے ؟ ۔ عاصم وقار کا سوال
حیدرآباد۔22۔ستمبر۔(سیاست نیوز) مجلس اتحادالمسلمین سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل اتر پردیش کے قائد جناب عاصم وقار نے صدر مجلس اتحاد المسلمین کے بیان پر شدید ردعمل میں کہا کہ وہ لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں جنہیں یہ سمجھنے کیلئے 29 سال اور دو نسل لگ گئے کہ کانگریس و دیگر سیکولر جماعتیں مسلمانوں کی دشمن ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ اب تک جو لوگ ان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرکے کہہ رہے تھے کہ ’عاصم وقار‘ کو یہ سمجھنے میں 10 سال لگ گئے کہ ’مجلس ‘ بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ہے تووہ مکمل خاموش تھے لیکن جب صدر مجلس بیرسٹراسدالدین اویسی نے یہ بات کہی یہ تو وہ جواب دینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ جناب عاصم وقار نے کہا کہ وہ کم از کم 10 سال میں سمجھ چکے ہیں کہ مجلس کیا کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے بیرسٹر اسدالدین اویسی سے استفسار کیا کہ جب وہ گذشتہ 10 برسوں سے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو مسلمانوں کی دشمن اور مسلم کش فسادات کیلئے ذمہ دار قرار دے رہے ہیں تو پھر کیوں ان جماعتوں سے اتحاد کیلئے بے چین ہیں اور کیوں ان کو انتباہ دے رہے ہیں کہ اگر وہ اتحاد نہیں کرتی ہیں تو اپنے اتحاد کا اعلان کردیں گے!انہوں نے کہا کہ جن جماعتوں کو وہ مسلم دشمن قرار دیتے رہے ہیں کیا وہ ان سے اتحاد کے بعد ’سیکولر‘ اور مسلم دوست ہوجائیں گیں!۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 تک مجلس کانگریس کے ساتھ یو پی اے میں رہی اور اب دوبارہ کانگریس اور سماج وادی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اتحاد کیلئے تیار ہیں۔ عاصم وقار نے کہا کہ جب مسلمانوں کی دشمن یہ جماعتیں ہیں تو مجلس کیوں ان جماعتوں سے اتحاد کیلئے کوشش کر رہی ہے! ۔ عاصم وقار نے مجلس پر الزام عائد کیا کہ مجلس کے قائدین سیکولر جماعتوں کونقصان پہنچانے کام کر رہے ہیں اورجو جماعتیں اقتدار میں ہیں ان کیلئے راہیں ہموار کر رہے ہیں۔3/k/b