کانگریس کو 40 نشستوں کا دعویٰ

   

کے سی آر سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی ہمدردی
ریونت ریڈی سے بہتر قرار دیا، معلق اسمبلی پر دونوں کی نظریں
حیدرآباد ۔6۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں انتخابی مہم جیسے جیسے شدت اختیار کر رہی ہے، بی آر ایس اور بی جے پی قائدین ایک ہی زبان و لہجہ میں گفتگو کر رہے ہیں۔ کانگریس کو اقتدار سے روکنے کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت کی دونوں پارٹیوں کی جانب سے لاکھ تردید کی جائے لیکن حقیقت کو آشکار ہونے سے روکا نہیں جاسکتا۔ بی آر ایس اور بی جے پی قائدین انتخابی مہم میں ایک دوسرے پر تنقید ضرور کر رہے ہیں لیکن دونوں کا اصل ٹارگٹ کانگریس پارٹی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند دونوں نے ایک ہی دن یہ بیان دیا کہ کانگریس کو تلنگانہ میں 40 سے زائد نشستیں حاصل نہیں ہوں گی۔ دونوں قائدین کی جانب سے 40 نشستوں کی پیش قیاسی محض اتفاق نہیں ہوسکتی۔ اتنا ہی نہیں گزشتہ چند ماہ سے کے سی آر اور ان کے افراد خاندان کو سخت نشانہ بنانے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند اچانک کے سی آر سے ہمدردی کا اظہار کرنے لگے۔ کل تک کے سی آر کو جیل بھیجنے کی باتیں کی جارہی تھی لیکن آج ڈی اروند کی نظر میں کے سی آر کانگریس کے صدر ریونت ریڈی سے بہتر ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں معلق اسمبلی کی صورت میں ایک دوسرے کی تائید کے ذریعہ تشکیل حکومت کا من بنالیا ہے ۔ دونوں پارٹیاں چاہتی ہیں کہ کانگریس کو اقتدار ملنے کے بجائے وہ 40 نشستوں پر محدود ہوجائے تاکہ بی آر ایس کو بی جے پی اور مجلس کی تائید سے تیسری مرتبہ تشکیل حکومت کا موقع مل سکے۔ تلنگانہ میں تائید کا بدلہ لوک سبھا چناؤ میں زائد نشستوں کے ذریعہ بی جے پی کو چکایا جائے گا۔ کے سی آر خاندان کے کٹر ناقد رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے کورٹلہ میں بی جے پی بوتھ سطح کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ کیلئے صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی سے بہتر ہیں۔ اروند کے اس بیان سے بی جے پی کارکن بھی حیرت میں پڑگئے ۔ ڈی اروند نے مزید کہا کہ میں آپ تمام کے آشیرواد سے کے سی آر خاندان کے خلاف لڑائی کر رہا ہوں اور ہم نے نظام آباد لوک سبھا حلقہ سے بی آر ایس کو شکست دی ہے لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ریونت ریڈی ایک بدترین سیاستداں ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ان سے بہتر ہیں۔ اروند نے کہا کہ کانگریس کو 40 سے زائد اسمبلی نشستوں پر کامیابی نہیں ملے گی۔ اروند نے کہا کہ عوام کانگریس کی کامیابی اور الیکشن میں بہتر مظاہرہ کے بارے میں پر امید ہیں لیکن اس طرح کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بی جے پی تلنگانہ میں حکومت تشکیل دے گی۔ اروند نے کہا کہ الیکشن سے قبل اور اس کے بعد سیاست خوب چلے گی۔ یا تو ہم اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دیں گے یا معلق اسمبلی کی صورت میں فیصلہ کن موقف رہے گا۔ بی جے پی کے ریاستی صدر کشن ریڈی سے جب ڈی اروند کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ وہ اس طرح کے بیانات سے واقف نہیں ہیں۔ کشن ریڈی کے مطابق اگر عوام کا آشیرواد ہے تو بی جے پی اپنی طاقت سے برسر اقتدار آئے گی۔ کے ٹی آر اور ڈی اروند کے بیانات میں یکسانیت کو دیکھتے ہوئے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ دونوں پارٹیوں میں خفیہ مفاہمت نے رنگ دکھانا شروع کردیا ہے۔ اروند جیسے کٹر مخالف کے سی آر کا اچانک یو ٹرن اور کے سی آر کو ریونت ریڈی سے بہتر قرار دینا سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ اروند نے نظام آباد لوک سبھا حلقہ سے چیف منسٹر کی دختر کویتا کو شکست دی تھی اور ہلدی بورڈ کے قیام کے مسئلہ پر کویتا نے اروند کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اروند کی کے سی آر سے اچانک ہمدردی محض اتفاق نہیں ہوسکتی کیونکہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ دہلی میں قومی قیادت سے قریب مانے جاتے ہیں۔