کاکروچ جنتا پارٹی کی اہمیت اور مستقبل

   

جسٹس ( ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو
کاکروچ جنتا پارٹی تحریک اصل میں ہمارے موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کے ایک ریمارکس ، ایک تبصرہ کے نتیجہ میں وجود میں آئی ۔ ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ملک کے بیروزگار نوجوانوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ جھنگروں کی طرح ہے ، اگرچہ بعد میں انہوں نے اپنے ریمارکس سے متعلق صفائی پیش کرنے کی کوشش کی لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ بوسٹن یونیورسٹی کے ایک ہندوستانی طالب علم ابھجیت دیپکے نے طنزیہ طور پر کاکروچ پارٹی کا قیام عمل میں لایا اور دیکھتے ہی دیکھتے کاکروچ جنتا پارٹی سوشل میڈیا پر بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی اور چند دنوں میں ہی کاکروچ جنتا پاٹی کے فالوورس کی تعداد 20ملین سے زائد ہوگئی جس پر ابھجیت دیپکے اور کاکروچ جنتا پارٹی کو ایک نیا عزم و حوصلہ ملا اور انہیں یقین ہوگیا کہ اگلے چند ماہ یا ایک سال میں سی جے پی فالوورس کی تعداد 500ملین تک پہنچ سکتی ہے ۔ اس نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بی جے پی کے نام کی طرز پر سی جے پی رکھی ۔ شائد انہوں نے سوچا کہ اگر چند دنوں میں دو کروڑ فالوورس مل سکتے ہیں تو چند ماہ یا ایک سال میں فالوورس کی تعداد 50 کروڑ (500 ملین ) تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔ چنانچہ انہوں نے ہندوستان واپس آکر ایک تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا جو شائد انہیں مستقبل میں عہدہ وزارت عظمی تک پہنچا سکے ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ سی جے پی کا احتجاج 6جون 2026ء سے دہلی کے جنتر منتر پر جاری ہے اور اہم بات یہ ہیکہ جنتر منتر کو ہندوستان کا Hyde Park سمجھا جاتا ہے، جہاں فی الوقت نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد جمع ہے ۔ وہاں لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی جہد کار سونم وانگچک نے بھی بھوک ہڑتال شروع کی اور طلبہ تحریک کی تائید و حمایت کا اعلان کیا ۔ ان کی عوام نے بالخصوص نوجوانوں نے زبردست تائید کی لیکن 26دن کے بعد سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی ۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تمام صورتحال کا کیا مطلب ہے ؟ ۔ کاکروچ جنتا پارٹی دراصل ہندوستانی نوجوانوں کی مایوسی اور بے چینی کی پیداوار ہے جو ملک میں آسمان کو چھوتی مہنگائی اور انتخابی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات سے بہت پریشان ہیں لیکن صرف جذبات سے ان مسائل کا حل ممکن نہیں ۔ کاکروچ جنتا پارٹی مطالبہ کررہی ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں کیونکہ امتحانی پرچے لیک ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہیکہ پرچہ لیک ہونا ہندوستان میں موجود وسیع پیمانہ پر بدعنوانی کا صرف ایک نمونہ ہے اگر صرف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی جگہ کوئی دوسرا وزیر تعلیم آبھی جائے تب بھی یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا ، کیونکہ جب تک ملک میں بڑے پیمانے پر کرپشن موجود ہے ایسے واقعات جاری رہیں گے ۔ بدعنوانی بھی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک موجودہ نظام برقرار ہے جیسا کہ 2011 کی انا ہزارے کی تحریک نے ثابت کردیا ۔اس تحریک میں بھی لاکھوں مرد و خواتین اور نوجوان شریک ہوئے تھے ، اسی طرح جس طرح سی جے پی کے احتجاجی مظاہرے میں نوجوانوں کی کثیر تعداد اُمڈ پڑی ہے مگر بعد میں وہ دم توڑ گئی اور کرپشن کے انسداد میںاس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ رشوت خوری یا کرپشن کے خلاف انا ہزارے تحریک کے بعد بدعنوانی کے رجحان میں مزید اضافہ ہوا ، جہاں تک بیروزگاری کا سوال ہے ہندوستان میں یہ ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر سال زائد از1.20 کروڑ نوجوان ملازمت کی مارکٹ میں داخل ہورہے ہیں لیکن منظم شعبہ میں 5لاکھ سے بھی کم نئی ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں پھر باقی ایک کروڑ پندرہ لاکھ نوجوان کہاں جاتے ہیں ۔ وہ ہاکرس بن جاتے ہیں ، سڑکوں پر ٹھیلہ بنڈی لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ، باؤنسرس ، اسٹریگرس ، مجرم اور بھکاری بن جاتے ہیں یہاں تک وہ خودکشی کے ذریعہ اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرلیتے ہیں جبکہ کئی لڑکیاں بازار حسن میں آجاتی ہیں ۔ آپ کو بتادوں کہ اگر درجہ چہارم جیسے چپراسی کی سررکاری ملازمت کا ایک اشتہار دیا جاتا ہے تو ہزاروں کی تعداد میں نوجوان درخواستیں دیتے ہیں جن میں پی ایچ ڈی ، ایم ایس سی ، ایم بی اے یا انجنیئرنگ کی ڈگریاں رکھنے والے امیدوار بھی شامل ہوتے ہیں اور جب کبھی فوج بھرتی مہم کا انعقاد عمل میں لاتی ہے نوجوان درخواست گزاروں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوجاتی ہے بعض اوقات تو بڑے پیمانہ پر جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں لیکن پیپر لیک کے انسداد کے ذریعہ بیروزگاری کا مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا یا پھر چیخ و پکار کے ذریعہ بیروزگاری کے مسئلہ کو حل نہیں جاسکتا جب تک ہندوستان میں بڑے پیمانہ پر کرپشن رہے گا تب تک پیپر لیک کو نہیں روکا جاسکتا ۔اگر بالغرض یہ رک بھی جائے تو اس سے صرف یہ ہوگا کہ ملازمتیں زیادہ مستحق افراد کو حاصل ہوں گی ، نااہل لوگو ں کو نہیں لیکن اس سے ملک میں مجموعی ملازمتوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہں ہوگا ۔ ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ہماری معیشت تیزی سے ترقی کرے ، ملک معاشی طور پر مستحکم ہو اور مختلف شعبوں میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں اور میرے خیال میں ایک نئے نظام میں یہ ہی ممکن ہوسکتا ہے اور وہ بھی ایک انقلاب کے بعد ہوسکتا ہے ۔ تاہم سی جے پی تحریک کوئی انقلاب نہیں ہے بلکہ یہ صرف ان ہندوستانی نوجوانوں کی جذباتی برہمی کا اظہار ہے جنہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیروزگاری کا خدشہ لاحق ہے یا بیروزگار ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے نوجوان Home Lineکے بچوں کی طرح ہیں جو اپنی تباہی تک پہنچنے کیلئے پائڈ پائپر کو فالو کیا ہے ۔
ماضی کی سیاسی تحریکوں سے ملے سبق :۔ اندرا گاندھی نے غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دیا اور ہندوستان بشمول ملک کے نوجوان ان کی تائید و حمایت میں اتر آئے اور کانگریس کے حق میں اپنے ووٹوں کا استعمال کیا ۔ اندرا گاندھی کو عہدہ وزارت عظمی پر فائز کیا ۔ 2011ء میں انا ہزارے نے کرپشن ہٹاؤ کا نعرہ دیا ان کے اطراف بھی بہت بڑا ہجوم بشمول نوجوان جمع ہوئے ، ان کو فالو کرنے لگے لیکن بعد میں وہ تحریک بھی پھیکی پڑگئی اور آج ہندوستان میں اس قدر زیادہ کرپشن ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا ۔ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی نے سب کا وکاس جیسا نعرہ لگایا، نوجوانوں نے ان کی تائید کی اور یہ سوچ کر بی جے پی کو اقتدار عطا کیا کہ ترقی کروڑہا نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی ، تاہم فی الوقت ہندوستان میں بیروزگاری ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ۔ جنتر منتر پرکاکروچس کا احتجاج شائد آپ کو قبول ہو لیکن پارلیمنٹ تک مارچ قبول نہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہیکہ پارلیمنٹ ایک خود مختار ادارہ ہے اور دنیا کی کوئی بھی حکومت اس قسم کے مارچ کی اجازت نہیں دے گی یا اسے برداشت نہیں کرے گی ۔ بہرحال توقع کے عین مطابق پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو راستے میں ہی روک لیا گیا اور انہیں منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا گیا ۔ تاہم سی جے پی تحریک اگرچہ صرف ایک جذباتی برہمی یا غصہ ہے لیکن اس کی اپنی اہمیت ہے ۔ اس سے پہلے راقم نے ایک مضمون تحریر کیا تھا جس میں سی جے پی کو ایک Joke قرار دیا تھا ، ایک بلبلا قرار دیا تھا جو جلد ہی پھٹ جائے گا ، بخارات میں تبدیل ہوجائے گا ، ایک شہاب ثاقب جو آسمان پر کچھ دیر نمودار ہوگا جگمگائے گا اور پھر غائب ہوجائے گا ۔ اگرچہ ایک Jokeہے لیکن اس کی بہت اہمیت ہے ۔ کچھ عرصہ سے کچھ لوگ اور ہندوستانی میڈیا کا ایک گوشہ ہندستانی معیشت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کررہا ہے ، ان کے خیال میں ہندسوتان کی جی ڈی پی بڑی تیزی سے پیشرفت کررہی ہے اور ہندوستانی معیشت دنیا کی سب سے تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے والی معیشت ہے اور جلد ہی یہ جاپان سے بھی آگے بڑھ جائے گی ، جرمن کی سطح پر آجائے گی اور ہندوستانی معیشت دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گی ۔ میں نے اکثر لکھا ہیکہ یہ تمام خام خیال اور خوش فہمی بلکہ غلط فہمی کے سواء کچھ نہیں کیونکہ ہندوستانی بڑے پیمانہ پر غربت سے متاثر ہیں ۔ بیروزگاری مسلسل بڑھتی جارہی ہے ، بچے بھی ناقص تغذیہ کا شکار ہیں ، حفظان صحت کا فقدان ہے ۔