کرناٹک: حجاب کے معاملے میں غیر منصفانہ فیصلہ سنانے والے ججوں کو حکومت نےوائی زمرے کی سیکورٹی فراہم کی

,

   

بنگلورو: کرناٹک حکومت نے ہائی کورٹ کے ان ججوں کے لیے سیکورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں اسکولوں کے اندر مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے سلسلے میں غیر منصفانہ فیصلہ سنایا تھا۔ کرناٹک حکومت کا یہ فیصلہ پڑوسی ملک تمل ناڈو میں بعض حلقوں کی جانب سے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کے تناظر میں آیا ہے۔چیف منسٹر بسواراج بومائی نے اتوار کو کہا کہ ہائی کورٹ کے جج جنہوں نے حجاب کے سلسلے میں فیصلہ دیا انہیں وائی زمرہ کی سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔اتوار کو یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بومئی نے کہا، ’’اگر کوئی اس فیصلے سے خوش نہیں ہے تو اس کے پاس اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا اختیار ہے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ بننے والی ملک دشمن قوتوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ ججوں کے لیے پہلے ہی سیکیورٹی کو مضبوط کیا گیا ہے لیکن میں نے انہیں Y زمرے کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔بومئی نے ججوں کو دی جانے والی دھمکیوں پر نام نہاد لبرلز اور سیکولرز کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ ریاستی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری کریں اور انہیں مزید تفتیش کے لیے کرناٹک لایا جائے۔کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے سلسلے میں تامل ناڈو میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے کلاس رومز میں حجاب پہننے کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں کو خارج کر دیا تھا۔کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور جسٹس حاجی زیب النساء محی الدین پر مشتمل خصوصی بنچ نے کلاس رومز میں حجاب کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ .کرناٹک میں، بنگلورو میں ودھانا سودھا پولیس نے ایڈوکیٹ سدھا کٹوا کی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی ہے۔ شکایت میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جان سے مارنے کی دھمکی، مجرمانہ دھمکیاں، گالی گلوچ کا استعمال، اور ریاست میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خلاف ورزی بھی ہے۔