وہ حادثہ مری نظروں کے سامنے گزرا
وہ جس کا خدشہ مرے دل میں بار بار رہا
کانگریس پارٹی نے بالآخر کرناٹک کے تعلق سے قطعی فیصلہ کرلیا ہے ۔ پارٹی نے اس فیصلے کو ٹالنے کی اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کی تھی تاہم ایک وقت آگیا جب پارٹی مزید ٹال مٹول نہیں کرپائی اور پھر اسے چیف منسٹر کی تبدیلی کا فیصلہ کرنا ہی پڑا ۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے سدا رامیا نے اپنا استعفی پیش کردیا ہے اور اب ریاست میں ڈی کے شیوکمار کو چیف منسٹر بنانے کی راہ ہموار ہوچکی ہے ۔ ہفتے کی شام چار بجے کانگریس مقننہ پارٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں شیوکمار کو اپنا نیا لیڈر منتخب کرلیا جائے گا اور وہ چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیں گے ۔ کانگریس کیلئے کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک اہم فیصلہ ثابت ہوگا ۔ ویسے بھی یہ ابتداء ہی سے قیاس کیا جا رہا تھا کہ کانگریس پارٹی نے ریاست میں سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کے مابین اقتدار کی تقسیم کا فارمولا اختیار کیا تھا ۔ ابتدائی ڈھائی سال کے بعد سدا رامیا استعفی پیش کرینگے اور مابعد مدت کیلئے شیوکمار چیف منسٹر ہونگے ۔ اس فارمولے کے تحت ہی قیادت کی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے تاہم اس فیصلے کو صرف کانگریس پارٹی کے داخلی مسئلہ تک نہیں دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس کو آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے کانگریس کی تیاریاوں کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ کانگریس پارٹی نے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی جو کامیابی حاصل کی تھی وہ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میںحاصل کی تھی اور چیف منسٹر کا عہدہ سدارامیا کے حق میں چلا گیا تھا ۔ اب پارٹی کو ایک بار پھر اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنا ہے اور اسی لئے شیوکمار کو چیف منسٹر کی حیثیت سے منتخب کرلیا گیا ہے ۔ شیوکمار کے پاس اتنا وقت ضرور ہے کہ وہ انتظامیہ پر اپنی گرفت مضبوط بنائیں اور پھر عوام میں اپنے امیج کو مزید مستحکم کرتے ہوئے کانگریس حکومت کی برقراری کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی کو آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لئے جنوبی ہند سے بہت امیدیں وابستہ ہیں اور اسی امید کو مزید مستحکم کرنے کیلئے بھی شیوکمار کو موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ شیوکمار بھی چاہتے تھے کہ پارٹی کے انتخابی امکانات کو بہتر بنانے کیلئے انہیں اپنی کارکردگی دکھانے کا وقت ضرور دستیاب رہے ۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کے تعلق سے جو فیصلہ ہوا ہے وہ راہول گاندھی کی ایماء پر کیا گیا ہے ۔ اس معاملے میںپارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے بھی سرگرم رول کی اطلاع ہے ۔ راہول گاندھی چاہتے ہیں کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات سے قبل اہم امور پر پارٹی مصلحت پسندی سے کام لینے کی بجائے مکمل کنٹرول کے ساتھ فیصلے کرے اور مرکزی قیادت کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے ۔ کانگریس پارٹی نے اس فیصلے سے قبل راجستھان اور چھتیس گڑھ کے حالات کا جائزہ لیا تھا ۔ راہول گاندھی کا یہ احساس ہے کہ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں روایتی اور قدیم قیادت پر انحصار کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں رائے دہندوں کا دوبارہ اعتماد حاصل نہیں کیا جاسکا ۔ خاص طور پر چھتیس گڑھ میں سمجھا جا رہا تھا کہ بھوپیش بگھیل اقتدار برقرار رکھ پائیں گے تاہم کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس مثال کو پیش نظر رکھتے ہوئے راہول گاندھی نے کرناٹک کے تعلق سے سخت فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے مزید مصلحت پسندی سے گریز کیا ہے ۔ راہول گاندھی ایک نکتہ پر کام کر رہے ہیں کہ انتخابات میں کامیابی کی اہلیت کو زیادہ مقدم رکھا جائے ۔ شخصی پسند اور تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیصلے کئے جا رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ آئندہ مہینوں میں پارٹی اور دیگر امور کے تعلق سے بھی اسی طرح کے فیصلے کئے جائیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ راہول گاندھی نے ہی شخصی بات چیت میں سدارامیا کو مستعفی ہونے کیلئے رضامند کرلیا تھا ۔
گذشتہ دنوں کرناٹک میں چیف منسٹر کے انتخاب کو بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ حالانکہ کے سی وینوگوپال گاندھی خاندان سے انتہائی قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ کیرالا چیف منسٹر کی حیثیت سے وہ راہول گاندھی کی پہلی پسند بھی تھے ۔ تاہم وہاں بھی انتخابات میں جیت کی صلاحیت کو پیش نظر رکھا گیا ۔ وی ڈی ستیشن کیرالا میں ووٹرس کی پہلی پسند کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ایسے میں وزارت اعلی کی ذمہ داری انہیں سونپ دی گئی ۔ وینوگوپال کو شخصی پسند ہونے کے باوجود یہ موقع نہیں دیا گیا ۔ کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور اس کے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں۔