غلط رائے کی بنیاد پر فیصلہ، 18 اپریل کو آئندہ سماعت تک احکامات پر عمل نہیں ہوگا
حیدرآباد۔14۔اپریل (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے کرناٹک میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی برخواستگی کے فیصلہ پر ناراضگی جتائی ہے۔ بی جے پی حکومت کے فیصلہ کے خلاف غلام رسول اور دوسروں نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواستیں داخل کی تھیں۔ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگارتنا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کرناٹک حکومت کے فیصلہ پر اعتراض جتایا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کرناٹک حکومت نے غلط رائے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا احساس تھا کہ مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات بی سی کمیشن کی عبوری رپورٹ کی بنیاد پر فراہم کئے گئے تھے۔ کرناٹک حکومت کو بی سی کمیشن کی قطعی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے تھا لیکن اس نے غلط معلومات کی بنیاد پر تحفظات کو یکایک ختم کردیا ۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ حکومت کے فیصلہ میں کئی خامیاں ہیں۔ کرناٹک کی بسوا راج بومائی حکومت نے 4 فیصد مسلم تحفظات کو کلنگا اور لنگایت طبقات میں دو دو فیصد تقسیم کردیا۔ جسٹس جوزف نے ریمارک کیا کہ حکومت کا فیصلہ غلط مفروضوں کی بنیاد پر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ سازی کی بنیاد متزلزل ہے۔ کرناٹک حکومت سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی گئی ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نہ کرناٹک حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آئندہ منگل تک حکومت کے فیصلہ پر عمل آوری نہیں ہوگی اور کوئی تقررات عمل میں نہیں لائے جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل کے بیان کو ریکارڈ میں شامل کرلیا۔ سینئر وکیل دشنت دعوے نے درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کرناٹک حکومت کے فیصلہ پر حکم التواء کی درخواست کی ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی الیکشن کے اعلان سے دو دن قبل یہ فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی بھی ڈیٹا کی عدم موجودگی میں ناانصافی پر مبنی فیصلہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ اقلیتی برادری کا تحفظ کرے۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم تحفظات کی برخواستگی دستور کی دفعہ 14 کی خلاف ورزی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ روی ورما کمار نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کو مذہب کی بنیاد پر تحفظات سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ کرناٹک حکومت نے ایسے وقت عجلت میں فیصلہ کیا جب تعلیمی اداروں میں داخلے جاری ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حلفنامہ داخل کرنے کیلئے عدالت سے وقت مانگا جس پر آئندہ سماعت 18 اپریل کو مقرر کی گئی۔ اس وقت تک کرناٹک حکومت کے احکامات پر عمل آوری نہیں ہوگی۔ر