کس طرف کو چلتی ہے اب ہوا نہیں معلوم

   

کیرالا اور آسام میں عوام کا فیصلہ محفوظ
مغربی بنگال … الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ
مودی اور ہیمنت بسوا سرما کی نفرتی مہم

رشیدالدین
آسام ، کیرالا اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات میں عوام کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں محفوظ ہوچکا ہے ۔ ٹاملناڈو میں 23 اپریل کو رائے دہی ہوگی جبکہ مغربی بنگال میں 23 اور 29 اپریل کو دو مراحل میں پولنگ ہوگی۔ چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ کے نتائج 4 مئی کو جاری کئے جائیں گے ۔ آسام ، کیرالا اور پڈوچیری میں رائے دہندوں نے تمام سابقہ ریکارڈس کو توڑتے ہوئے غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ آسام میں 85 فیصد سے زائد ریکارڈ رائے دہی ہوئی جبکہ کیرالا میں 75 فیصد اور پڈوچیری میں 87 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ عام طور پر ریکارڈ رائے دہی کو سیاسی مبصرین تبدیلی کے رجحان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 2016 میں کانگریس کی گوگوئی سرکار اقتدار سے محروم ہوئی اور اس وقت رائے دہی 84.12 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ 10 سال بعد رائے دہی 85 فیصد سے زائد ہوئی جو مبصرین کے مطابق عوام کی جانب سے تبدیلی کا اشارہ ہے۔ کیرالا میں رائے دہی کے فیصد سے کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف اتحاد پر امید ہے۔ بی جے پی کے لئے یہ انتخابات ایسڈ ٹسٹ کی طرح ہے کیونکہ تین غیر بی جے پی ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ انتخابی مہم اور رائے دہی کے رجحانات کے اعتبار سے کیرالا میں کانگریس زیر قیادت اتحاد ، ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے اور مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے موقف کو مستحکم بتایا گیا ہے ۔ آسام میں بی جے پی اور کانگریس میں سخت مقابلہ کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی جنوبی ریاستوں میں قدم جمانا چاہتی ہے تاکہ ملک پر مکمل کنٹرول ہوجائے ۔ لاکھ کوششوں کے باوجود کیرالا اور ٹاملناڈو میں بی جے پی کو قدم جمانے کیلئے شائد آئندہ 10 برسوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔ رہا سوال ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کا تو مغربی بنگال میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود بی جے پی کا اقتدار تک رسائی کا خواب اس مرتبہ بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہوئے ہندو راشٹر کی تشکیل میں مغربی بنگال ، کیرالا ، ٹاملناڈو اور کانگر یس زیر اقتدار کرناٹک اور تلنگانہ اہم رکاوٹ ہیں۔ آسام میں نفرت کی سیاست اور SIR کے ذریعہ ہیمنت بسوا سرما کو اقتدار میں برقراری کا یقین ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ الیکشن کمیشن کی مدد سے بی جے پی ملک کی ریاستوں میں کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلیوں کی شکایت ابھی ختم نہیں ہوئی کہ فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی یعنی SIR کے ذریعہ مخالف بی جے پی ووٹ حذف کئے جارہے ہیں۔ نظرثانی مہم کے ذریعہ مسلم رائے دہندوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ بہار میں یہی کھیل کھیلا گیا اور مغربی بنگال اگلا نشانہ ہے۔ مرکز میں نریندر مودی حکومت کے قیام کے بعد الیکشن کمیشن کو آزادانہ اور دستوری ادارہ سے حکومت کے ماتحت ادارہ میں تبدیل کردیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس کے تقرر کا اختیار حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ وزیراعظم ، چیف جسٹس آف انڈیا اور لیڈر آف اپوزیشن کے پیانل سے چیف جسٹس کو نکال کر ایک مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا تاکہ اکثریتی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے ۔ مودی حکومت نے الیکشن کمیشن کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے قانون سازی کی ہے جس کے تحت الیکشن کمشنرس کے خلاف تاحیات کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی بھلے ہی انہوں نے کچھ بھی غلطی یا دھاندلی کیوں نہ کی ہو۔ اس طرح الیکشن کمیشن بی جے پی کا ذیلی ادارہ بن چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنی آز ادی اور غیر جانبداری کا سودا کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف بی جے پی میں تبدیل ہوگیا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا رویہ بی جے قائد کی طرح ہوچکا ہے جو مخالف بی جے پی پارٹیوں کے خلاف سیاسی بیانات دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی دستوری فرائض سے غفلت اور بی جے پی کے حق میں فیصلوں پر اپوزیشن کی جانب سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کے خلاف تحریک مواخذہ پیش کی گئی۔ لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 ارکان نے تحریک پر دستخط کئے تھے لیکن اسپیکر لوک سبھا اور صدرنشین راجیہ سبھا نے وجہ بتائے بغیر ہی تحریک کو نامنظور کردیا ۔ حکومت کے اس فیصلہ سے گیانیش کمار کی ہمت بڑھ گئی اور وہ بی جے پی کارکن کا روپ دھارن کرچکے ہیں۔ تحریک مواخذہ کے سلسلہ میں قواعد کے مطابق الزامات کی جانچ کے لئے کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اور دونوں ایوانوں میں مباحث کی تاریخ طئے ہوتی ہے۔ گیانیش کمار کے معاملہ میں صدرنشین راجیہ سبھا نے کہہ دیا کہ الزامات کے حق میں ثبوت پیش نہیں کیا گیا ۔ اپوزیشن کو ثبوت پیش کرنے کا موقع صدرنشین نے کہاں دیا ؟ مباحث کے دوران گیانیش کمار کی غیر جانبداری کا پول کھل سکتا تھا لیکن چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر انہیں بچالیا گیا۔ مغربی بنگال میں الیکشن کے ذریعہ ممتا بنرجی کو ہرانا آسان نہیں ، لہذا الیکشن کمیشن کو SIR کے نام پر ممتا کے حامیوں بالخصوص مسلمانوں کے ووٹ کاٹنے کی مہم پر لگادیا گیا ۔ پہلے اور دوسرے مرحلہ میں جملہ91 لاکھ فہرست سے کاٹ دیئے گئے اور یہ زیادہ تر مسلم اکثریتی والے علاقوں میں دیکھا گیا۔ کسی بھی ریاست میں 91 لاکھ ناموں کو حذف کرنا شائد ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے اور اس سے مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے عزائم کا پتہ چلتا ہے۔ افسوس کہ سپریم کورٹ نے 27 لاکھ افراد کے ناموں کی بحالی کی ہدایت نہیں دی جنہوں نے لوک سبھا چناؤ میں ووٹ دیا تھا اور ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں۔ ان سب کے باوجود سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے مایوس کردیا کہ اب نہ سہی آئندہ الیکشن میں ووٹ دے سکتے ہیں۔ دستور ہندو نے ہر شہری کو ووٹ کا حق دیا ہے لیکن مغربی بنگال میں 91 لاکھ افراد کو دستوری حق سے محروم کردیا گیا ۔ مسلم اکثریتی نندی گرام علاقہ میں مسلمانوں کے 95.5 فیصد نام حذف کردیئے گئے ۔ حکومت کی سرپرستی میں گیانیش کمار بے لگام ہوچکے ہیں اور انہوں نے ٹی ایم سی ارکان پارلیمنٹ کو Getlost دفع ہوجاؤ کہتے ہوئے بی جے پی ایجنٹ ہونے کا ثبوت دیا۔الیکشن کمیشن نے ترنمول کانگریس کو دو ٹوک جواب کے عنوان سے سیاسی ٹوئیٹ کیا ۔ الیکشن کمیشن کی تاریخ میں برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے کمیشن کے استعمال کی اس سے زیادہ بدترین مثال شائد ہی ہوگی۔ بی جے پی اور حکومت میں بیٹھے سیاسی آ قاؤں سے اتنی ہمدردی ہو تو گیانیش کمار کو بی جے پی ٹکٹ پر مقابلہ کرنا چاہئے ۔ جہدکار یوگیندر یادو نے ریمارک کیا کہ جمہوریت میں ووٹر حکومت کو چنتے ہیں لیکن یہاں مرکزی حکومت ووٹر کو چن رہی ہے۔ مغربی بنگال میں مسلم ووٹ کی تقسیم کیلئے بی جے پی نے ہمایوں کبیر کو میدان میں اتارا تھا لیکن شطرنج کا یہ مہرا مات کھا گیا ۔ وائرل ویڈیو میں ہمایوں کبیر نے بی جے پی سے 1000 کروڑ کی ڈیلنگ کا خلاصہ کرتے ہوئے رائے دہندوں کی آنکھیں کھول دیں جو بابری مسجد کے نام پر جذباتی ہوکر ان کے ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔
انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور ہیمنت بسوا سرما نے عوامی مسائل سے زیادہ نفرت کے پرچار کو ترجیح دی ۔ وزیراعطم نے اس بات کو دہرایا کہ یکساں سیول کوڈ بی جے پی ایجنڈہ میں شامل ہے۔ اتراکھنڈ اور گجرات میں ریاستی سطح پر یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جاچکا ہے۔ وزیراعظم نے انتخابی مہم کے دوران کیرالا فائلز ، کشمیر فائلز اور دھریندر جیسی متنازعہ فلموں کا حوالہ دیتے ہوئے ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش کی ۔ ماہرین نے کہا کہ وزیراعظم کو فائلز کا ذکر ہی کرنا ہے تو وہ ایپسٹین فائلز کا ذکر کریں جس میں ان کا اور ان کے دوستوں کے نام شامل ہیں۔ ایپسٹین فائلز کے نتیجہ میں نریندر مودی نے امریکہ اور اسرائیل کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ ہیمنت بسوا سرما نے ہندو رائے دہندوں کو خوش کرنے کیلئے 25 اسمبلی حلقہ جات میں مہم نہیں چلائی جہاں مسلمانوں کی آبادی قابل لحاظ ہے۔ آسام میں مسلم آبادی 35 فیصد ہے اور وہاں مسلمانوں کے ساتھ نفرت اور جانبداری کا یہ معاملہ شائد انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوگا۔ چیف منسٹر کی اہلیہ کے تین پاسپورٹس کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا۔ دن رات مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنے والے ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ کے پاس دو مسلم ممالک کے پاسپورٹس ہیں۔ چیف منسٹر آسام نے مسلمانوں کی دکانات سے خریدی نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اگر ہیمنت بسوا سرما اور ان کی ذہنیت رکھنے والے اپنی بات پر قائم ہوں تو انہیں ایران ، قطر اور کویت جیسے مسلم ممالک سے حاصل ہونے والے گیاس اور پٹرول کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ نفرت کی سیاست کا ملک میں خاتمہ ضروری ہے ورنہ عوام جواب دینے کیلئے مجبور ہوجائیں گے۔ انتخابی صورتحال پر احمد فراز کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
کس طرف کو چلتی ہے اب ہوا نہیں معلوم
ہاتھ اٹھالیئے سب نے اور دعا نہیں معلوم