کسانوں کے قرض کی معافی اور ایک جھوٹا وعدہ: ہریش راؤ

   

لوک سبھا انتخابات میں شکست کے خوف سے چیف منسٹر نیا سیاسی حربہ
حیدرآباد۔ 16 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سینئر قائد سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں شکست کے خوف سے چیف منسٹر نیا وعدہ کرتے ہوئے ایک بار پھر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کل چیف منسٹر نے نارائن پیٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے 15 اگست سے قبل کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پھر ایک مرتبہ کسانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے 100 دن میں ہی ریاست میں خشک سالی اور برقی بحران پیدا ہوگیا ہے تاحال 215 کسان خودکشی کرچکے ہیں جس کے خلاف بی آر ایس نے جدوجہد شروع کی ہے اس سے خوف زدہ ہوکر چیف منسٹر نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کانگریس پارٹی کے منشور میں کسانوں کو 15 ہزار روپے رعیتو بھروسہ دینے کا وعدہ کیا گیا اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی۔ زرعی مزدور کو 12 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا گیا اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی۔ مہالکشمی اسکیم کے تحت غریب خواتین کو ماہانہ 2500 روپے وظیفہ دینے کا اعلان کیا گیا اس پر بھی عمل آوری نہیں کی گئی۔ 2000 روپے کے پنشن کو 4000 ہزار روپے تک بڑھانے کا وعدہ کیا گیا اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں کی گئی جس سے عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی پیدا ہوگئی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے خوف سے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایک مشت کسانوں کو 2 لاکھ روپے تک قرض معاف کردینے کا نیا جھوٹا وعدہ کیا ہے جس پر ریاست کے عوام بالخصوص کسانوں کو بھروسہ نہیں ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس پارٹی شاندار مظاہرہ کرے گی۔ عوام کے درمیان میں رہتے ہوئے تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔ 2