کسانوں کے مسئلہ پر کے ٹی آر کا کھلے مباحث کا چیلنج قبول

   

شراب کی فروخت عام، چیف منسٹر کے فارم ہاوز میںگانجہ کی کاشت، ریونت ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔/11جنوری، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کانگریس دور حکومت میں کسانوں کی بھلائی اور آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر پر ریاستی وزیر کے ٹی آر کے کھلے مباحث کے چیلنج کو قبول کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلے مباحث کیلئے مقام اور وقت کا تعین کے ٹی آر کو کرنا چاہیئے اور وہ کانگریس دور حکومت کے وزیر برقی محمد علی شبیر اور کسان سیل کے صدرنشین انویش ریڈی کے ہمراہ پرگتی بھون آنے کیلئے تیار ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ رعیتو بندھو کے نام پر ٹی آر ایس کی جانب سے ریاست بھر میں تقاریب کا اہتمام کیا گیا لیکن کسانوں کی خودکشی کے واقعات فراموش کردیئے گئے۔ کانگریس دور حکومت میں کئی اہم آبپاشی پراجکٹس مکمل کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے کسانوں کی بھلائی کے بجائے گاؤں گاؤں میں شراب کی دکان قائم کردی ہے۔ شراب کی فروخت سے گزشتہ سات برسوں میں ایک لاکھ 50 ہزار کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ غریب اور متوسط طبقات کو شراب کی لعنت میں گرفتار کرتے ہوئے کے سی آر شراب نوشی کے برانڈ ایمبسیڈر بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں گانجہ کی فروخت عام ہوچکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گجویل کے فارم ہاوز میں آخر کس چیز کی کاشت ہورہی ہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ چیف منسٹر کے فارم ہاوز میں گانجہ کی کاشت ہورہی ہے۔2014 سے 2018 تک ریاست میں 75 ہزار سے زائد کسانوں کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے گزشتہ سات برسوں میں فوت ہونے والے کسانوں کی تفصیلات پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 18 سے 58 سال کے کسانوں کی موت بڑی تعداد میں واقع ہوئی ہے جس کے لئے کے سی آر حکومت ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ حکومت سے کے سی آر اور کے ٹی آر کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر بھوپیش بھاگل سے کے سی آر کو ملاقات کرتے ہوئے کسانوں کی بھلائی کے اقدامات کی تفصیلات حاصل کرنی چاہیئے۔ پریس کانفرنس میں محمد علی شبیر، بلرام نائیک، ملوروی، انویش ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔ر