کشمیر میں 22 ویں دن بھی ہڑتال، مواصلاتی پابندیاں برقرار

,

   

اسکولس، بینکس بند، چند دفاتر میں معمولی کام کاج، ریلوے خدمات بھی معطل، وادی کی صورتحال مزید ابتر

سری نگر، 26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں پیر کے روز مسلسل 22 ویں دن بھی مکمل ہڑتال رہی۔ سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو کا نفاذ بدستور جاری ہے جبکہ وادی بھر میں فون و انٹرنیٹ خدمات کی معطلی بھی جاری رکھی گئی ہے ۔ تعلیمی ادارے اور بیشتر بنک شاخیں بند ہیں۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھولے گئے ہیں تاہم ان میں معمول کا کام کاج ٹھپ ہے ۔ وادی میں ریل خدمات بھی گزشتہ تین ہفتوں سے معطل ہے ۔ وادی میں معمول کی زندگی 5 اگست کو اس وقت معطل ہوئی جب مرکزی حکومت نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹادی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنانے کا اعلان کردیا۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم اس کے برعکس سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن گاڑیوں کو سول سکریٹریٹ ملازمین کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سے سٹیٹ بنک آف انڈیا کی بیشتر شاخوں پر تالا لگا ہوا ہے ۔ وہ افراد جن کے ایس بی آئی کی بنک شاخوں میں کھاتے ہیں نے بتایا کہ بنک شاخوں کے مسلسل بند رہنے سے انہیں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بنک کے بیشتر اے ٹی ایم بھی بند پڑے ہیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں پیر کے روز مسلسل 22 ویں دن بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ تاہم سڑکوں پر نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں اور پھل و سبزی فروشوں کو سڑکوں کے کنارے گاہکوں کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ کسی بھی علاحدگی پسند یا دوسری تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی ہے بلکہ جس ہڑتال کا سلسلہ جاری وہ غیر اعلانیہ ہے ۔ انتظامیہ نے کشمیر میں سبھی علاحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظر بند رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو چھوڑ کر ریاست میں انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیڈران کو اپنے گھروں یا سری نگر کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع سنٹور ہوٹل میں نظر بند رکھا گیا ہے ۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ علاوہ ازیں ان سے کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا۔ دریں اثنا سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو کا نفاذ بدستور جاری ہے جبکہ وادی کے دیگر حصوں میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد ہے ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نرمی لانے کا سلسلہ جاری ہے اور صورتحال میں مزید بہتری کے بعد مواصلاتی خدمات کی بحالی بھی شروع ہوگی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پیر کی صبح سری نگر کے پائین شہر کا دورہ کیا نے بتایا کہ پائین شہر میں کرفیو کا نفاذ جاری ہے اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پائین شہر میں لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کرکے رکھا گیا ہے اور ان کے لئے دودھ و سبزی حاصل کرنا بھی مشکل ثابت ہورہا ہے ۔
ادھر سری نگر کے سیول لائنز اور بالائی شہر میں پیر کے روز بھی کوئی پابندیاں نافذ نہیں رہیں۔ تاہم سڑکوں پر فورسز کی تعیناتی برقرار رکھی گئی ہے ۔ سیول لائنز اور بالائی شہر میں پیر کو نجی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتے ہوئے نظر آئیں، تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت بدستور معطل ہے ۔
JK [؟] KASHMIR BANDH CONTINUES THREE LAST SRINAGAR
….
وادی میں تین ہفتوں سے جاری مواصلاتی پابندی کی وجہ سے زندگی کا ہر ایک شعبہ بری طرح سے متاثر ہو کر رہ گیا ہے ۔ عام لوگوں کو بالعموم جبکہ طلباء اور پیشہ ور افراد کو بالخصوص شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء نے حکومت سے وادی میں مواصلاتی خدمات بحال کرنے کی اپیل کی ہے ۔ طلباء کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کو فون پر بتایا کہ وادی میں موبائل فون و
انٹرنیٹ خدمات کی مسلسل معطلی کی وجہ سے وہ اپنے افراد خانہ سے بات کرنے سے قاصر ہیں۔
جموں کشمیر حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے سونہ وار سری نگر کے ایک نجی ہوٹل میں قائم کردہ میڈیا سنٹر اس وقت وادی میں موجود مقامی و غیر مقامی صحافیوں اور مقامی میڈیا اداروں کے لئے آکسیجن جیسا ثابت ہورہا ہے ۔ میڈیا سنٹر جہاں صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لئے انٹرنیٹ کنکشن سے لیس پانچ کمپیوٹرس اور کالنگ کے لئے ایک موبائل فون دستیاب رکھے گئے ہیں، میں صبح سے رات دیر گئے تک صحافیوں اور مقامی اخبارات کے ملازمین کو اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔