سری لنکا بحران پر دہلی میں منعقدہ میٹنگ میں مرکز کے قرض پر ڈاکٹر کیشو راؤ کے سوالات کی بوچھار
حیدرآباد 19 جولائی (سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے سری لنکا کے بحران پر دہلی میں منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں تلنگانہ کی مالیاتی صورتحال پر پریزنٹیشن پیش کرنے کی ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے سخت مذمت کرتے ہوئے ملک کے قرض کی تفصیلات پیش کرنے پر زور دیا۔ مرکزی وزراء جئے شنکر اور پرہلاد جوشی کے علاوہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں کی جانب سے سری لنکا کے بحران پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا گیا جس میں بحران کے لئے سیاسی صورتحال کے علاوہ حد سے زیادہ قرض حاصل کرنے کو وجہ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد ریاستوں کی جانب سے حاصل کردہ قرض پر بھی پریزنٹیشن پیش کیا گیا اور تلنگانہ کی جانب سے حد سے زیادہ قرض حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا جس پر ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی کے قائدین ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور این ناگیشور راؤ نے سخت اعتراض کیا اور کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے حاصل کردہ قرض پر پریزنٹیشن پیش کرنے پر زور دیا۔ فی کس آمدنی کے معاملہ میں ریاست تلنگانہ سارے ملک میں دوسرے مقام پر ہے۔ صرف جن ریاستوں میں اپوزیشن کی حکمرانی ہے اُن ریاستوں کے قرض پر بات کرنا سیاسی سازش کا حصہ ہے۔ ٹی آر ایس کے علاوہ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے بھی مرکز کے رویہ پر سخت اعتراض کیا۔ ریاستوں کی مالی حالت پر پریزنٹیشن پیش کرنے کی وجہ طلب کی۔ ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے کہاکہ تلنگانہ کا قرض مرکزی حکومت کی نشاندہی کردہ ایف آر بی ایم کے 3.5 فیصد حدود میں ہے جبکہ مرکزی حکومت کا قرض 6.2 فیصد ہے۔ مرکز سے استفسار کیا گیا کہ کیا تلنگانہ نے قرض حاصل کرنے کے بعد ادائیگی کے معاملہ میں کبھی تاخیر کی ہے؟ مرکز کے حاصل کردہ قرض پر کون جواب دے گا۔ ملک کی معاشی صورتحال پر مباحث کا اُنھوں نے مطالبہ کیا۔ ن