کم عمر ی کی شادیوں کو روکنے میں تلنگانہ حکومت کی اسکیمات معاون

   


نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی سے بی ونود کمار کی ملاقات
حیدرآباد۔/30 اگسٹ، ( سیاست نیوز) نوبل انعام یافتہ اور بچوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے کیلاش ستیارتھی نے تلنگانہ میں کلیان لکشمی اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی کم عمر میں شادی کو روکنے میں یہ اسکیمات کارگر ثابت ہوئی ہیں۔ نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے نئی دہلی میں کیلاش ستیارتھی سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بچوں کے حقوق کی پامالی کو روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ سابق میں غربت کے باعث کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کی جارہی تھی لیکن حکومت نے غریب خاندانوں کی مدد کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ کلیان لکشمی اور شادی مبارک جیسی اسکیمات سے کم عمری میں شادیوں کو روکنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے علاوہ ورنگل اور محبوب آباد میں خصوصی عدالتوں کے سبب مقدمات کی یکسوئی میں تیزی آئی ہے۔ کیلاش ستیارتھی نے عالمی تحفظ حقوق اطفال کے موقع پر مختلف پروگراموں کے انعقاد کا ذکر کیا۔ ونود کمار نے بتایا کہ 18 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی شادی کیلئے حکومت کی جانب سے امداد دی جارہی ہے۔ کلیان لکشمی اسکیم کے تحت ابھی تک 1125204 خاندانوں میں 9662 کروڑ روپئے منظور کئے گئے جبکہ شادی مبارک کے تحت 220670 خاندانوں میں 1782 کروڑ روپئے منظور کئے گئے۔ ونود کمار نے درج فہرست اقوام و قبائیل اور پسماندہ طبقات کیلئے حکومت کی اسکیمات سے واقف کرایا۔ کیلاش ستیارتھی نے کہا کہ 18 ستمبر کو اقوام متحدہ میں بچوں کے حقوق پر کانفرنس کے موقع پر وہ تلنگانہ کی اسکیمات کا حوالہ دیں گے۔ر