برلن: بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یو آو گلینٹ کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے بعد عالمی سطح پر ملا جلا رد عمل سامنے آرہا ہے۔ اگر وہ جرمنی میں داخل ہوتے ہیں تو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو ممکنہ طور پر گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ بات جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیرباک کے بیانات میں سامنے آئی ہے جو پیر کو اطالوی شہر فیوگی میں سات بڑے صنعتی ممالک کے گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت قانون کی پاسداری کرتی ہے کیونکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔گذشتہ جمعرات کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف دو وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔’آئی سی سی‘ کنونشن کے تحت رکن ممالک کو گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ جرمنی بھی روم کنونشن کے تحت تشکیل دی گئی عالمی فوج داری عدالت کا رکن ہے اور عدالت کے رکن ہونے کے ناطے اسے ٹریبونل کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ جرمن وزیر خارجہ جس کا تعلق گرین پارٹی سے ہے نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کا اطلاق ہوتا ہے اور اس معاملے میں عدلیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اب یہ قدم اٹھانے کیلئے کافی ثبوت موجود ہیں لیکن انہوں نے زور دیا کہ وہ جاری طریقہ کار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔گرفتاری کے دو وارنٹ جاری کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے بیرباک نے گذشتہ جمعہ کو کہا تھا یہ سوال کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم یورپی یونین میں داخل ہوں گے ایک فرضی سوال ہے لیکن اب ہم اس بات کا بالکل مطالعہ کر رہے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ کیسے نمٹیں گے”۔