جمعیت علمائے کا سخت احتجاج،سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز جمعہ کی ادائیگی
کولکاتا۔17؍جولائی (ایجنسیز )مغربی بنگال کے کولکاتا میں واقع بانکڑا مسجد تک رسائی محدود کیے جانے کے خلاف جمعیت علمائے ہند (مغربی بنگال) کے صدر صدیق اللہ چودھری کی اپیل پر جمعہ کے روز متعدد نمازیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پرامن احتجاج کیا۔ مسجد کے اطراف جو نیتاجی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے میں واقع ہے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ حکام نے مسجد تک رسائی پر پابندی کی وجہ ہوائی اڈے کی سکیورٹی کو قرار دیا ہے تاہم اس فیصلے پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ آج ہندوستان کیلئے یوم سیاہ ہے۔ انہوں نے کہا ’’مجھے افسوس ہے کہ بانکڑا کو بدنام کیا گیا۔ آج مغربی بنگال میں ایک کروڑ مسلمانوں نے 55 ہزار مساجد میں نماز جمعہ ادا کی اور سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ اس مقام پر لاکھوں افراد جمع ہوں گے لیکن اس معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازعہ بنایا گیا۔یہ احتجاج اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ریاستی حکومت نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے 130 سال سے زائد قدیم بانکڑا مسجد کو ہوائی اڈے کے احاطے سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 2025 میں بی جے پی رہنما سکانتا مجمدار نے بھی اس مسجد کی موجودگی پر سکیورٹی خدشات ظاہر کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کی موجودگی کے باعث رن وے کی توسیع متاثر ہو رہی ہے، اس لیے اسے ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا سے مشاورت کے بعد کسی دوسری جگہ منتقل کیا جانا چاہیے۔اگر مسجد کمیٹی قومی مفاد کو مدنظر رکھے تو اس مسئلے کا باہمی بات چیت سے حل نکالا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق بانکڑا مسجد ہوائی اڈے کے ثانوی رن وے سے تقریباً 165 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی تعمیر ہوائی اڈے کے قیام سے بھی پہلے ہوئی تھی۔ ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کی موجودگی رن وے کی توسیع، پروازوں کے بہتر انتظام اور شدید دھند کے دوران جدید انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم (ILS) کی تنصیب میں رکاوٹ بن رہی ہے۔