کویتا و کے سی آر کے قریبی تاجرین و اہم شہریوں میں تشویش

   

دہلی شراب اسکام کی تحقیقات
مشتبہ افراد کو جلد نوٹس کی اجرائی کا امکان ۔ موبائیل فون بھی ضبط کرنے پر غور

حیدرآباد 20 نومبر(سیاست نیوز)دہلی شراب اسکام کی تحقیقات میں شدت اور شہر تعلق رکھنے والے بعض این آر آئی تاجر کے نام کے انکشاف نے شہریوں بالخصوص کے کویتا ایم ایل سی و دختر چیف منسٹر چندرشیکھر راؤسے قریبی روابط رکھنے والے تاجرین اور اہم شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ آئندہ دنوں میں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کاروائیوں میں مزید شدت پیدا کرکے این آر آئی کے قریبی ساتھیوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ و سی بی آئی جو دہلی شراب اسکام معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے وہ اس معاملہ میں مبینہ ملوث ’ کوارٹر شریف‘ نامی شخص کی تلاش میں ہے جس کا تعلق شہر سے بتایا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں چکوٹی پروین کے قمار بازی مقدمہ میں 100 سے زائد افراد کی ای ڈی سے فہرست کی تیاری میں بعض سرکردہ تاجرین اور سیاسی قائدین کے ناموں کے بعد اب شراب اسکام معاملہ میں افتخار نامی این آر آئی کا نام منظر عام پر آنے کے بعد کہا جا رہاہے کہ دہلی شراب اسکام کے تار شہر ہی نہیں بلکہ دوبئی ‘ امریکہ اور دیگر ممالک سے جڑے ہیں۔ قمار بازی معاملہ میں ای ڈی کی کاروائی بتدریج جاری ہے اور اب شراب اسکام میں سی بی آئی اور ای ڈی کی تحقیقات میں شدت کے متعلق کہا جار ہاہے کہ جلد ہی اس معاملہ میں این آر آئی سمیت دیگر افراد کو نوٹس جاری کئے جانے کا امکان ہے۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق حالیہ عرصہ میں مشتبہ ملزمین کی جانب سے موبائیل فون تلف کرنے کی جو کوشش کی گئی اس کے پیش نظر جن افراد پر شبہات ہیں ان کے فون ضبط کرنے اقدامات کئے جائیںگے تاکہ فون ڈاٹا کے ذریعہ شراب اسکام میں ملوث افراد تک رسائی حاصل کی جاسکے۔شہر کے نواحی علاقہ سے تعلق رکھنے والے این آر آئی کے شراب اسکام میں ملوث ہونے کے بعد یہ کہاجا رہاہے کہ ان کے قریبی افراد پر بھی سی بی آئی نے خصوصی نظر رکھنی شروع کردی ہے تاکہ کسی بھی فرد کو فرار ہونے کا موقع نہ دیا جائے بلکہ انہیں جلد حراست میں لے کر کاروائی کا آغاز کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق چکوٹی پروین قمار بازی و منی لانڈرنگ معاملہ کی تحقیقات میں شدت کی صور ت میں کئی بااثر شخصیتوں کے ناموں کا انکشاف ہوسکتا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے ان ناموں کو پوشیدہ رکھتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی تھیں لیکن بی جے پی اور ٹی آر ایس کی سیاسی رسہ کشی کے سبب ناموں کا انکشاف ہونے لگا جو کہ تحقیقات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔م