کویتا کانگریس ہائی کمان کے رابطہ میں ؟کے سی آر بیٹی کو منانے میں مصروف

   

بی آر ایس کے 15 ارکان اسمبلی کی کانگریس سے بات چیت ۔ ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ : ریونت ریڈی

حیدرآباد۔ 28 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کی ایم ایل سی کویتا کی جانب سے کے سی آر کو تحریر کردہ مکتوب کیا ’’پیالی کا طوفان‘‘ ثابت ہوگا یا کویتا ’’دوسری شرمیلا‘‘ بن جائے گی۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ایک نئی افواہ بھی سَر اُبھار رہی ہے کہ کویتا، کانگریس ہائی کمان کے رابطہ میں ہیں اور وہ کسی بھی وقت پارٹی کے چند ارکان اسمبلی کو لے کر کانگریس میں شامل ہوسکتی ہے؟ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ تین دن تک دہلی میں پارٹی قائدین سے ملاقاتوں میں مصروف تھے، اسی دوران کویتا کی کانگریس سے رابطہ کی اطلاعات دونوں کے سامنے رکھی گئیں تو انہوں نے اس تجویز کو یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ بی آر ایس بحران کا شکار ہے، اگر کویتا کو ایسی صورتحال میں کانگریس پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے تو بی آر ایس میں پھوٹ کی ذمہ دار کانگریس کو ٹھہرایا جائے گا اور بی آر ایس سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ جب کے سی آر خاندان میں اختلافات منظر عام پر آچکے ہیں اور بی آر ایس زوال کے قریب ہے تو ہمیں مزید کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ بی آر ایس میں پہلے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے درمیان رسہ کشی ہے اور ساتھ ہی کویتا نے بھی مکتوب کے ذریعہ پارٹی کے شیطانوں کو منظر عام پر لایا ہے۔ ریاست میں بی آر ایس پارٹی موضوع بحث بنی ہوئی ہے، ایسے میں ہمیں کچھ کرنے کے بجائے صرف ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی پالیسی اپنانی چاہئے۔ بی آر ایس کے تازہ بحران کے بعد اس کے چند ارکان اسمبلی دوبارہ کانگریس سے رابطہ میں آچکے ہیں۔ یہ کہا جارہا ہے کہ ان ارکان اسمبلی میں جی ایچ ایم سی حدود کی نمائندگی کرنے والے ارکان اسمبلی کی اکثریت ہے۔ کالیشورم کمیشن پارٹی کے سربراہ کے سی آر اور بی آر ایس کے Trouble Shooter ہریش راؤ کو نوٹس جاری کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے پارٹی کے کارگزار صدر کے ٹی آر کو بھی نوٹس جاری کی گئی ہے جس کے بعد بی آر ایس میں ارکان اسمبلی فکرمند ہوچکے ہیں اور پارٹی کیڈر الجھن کا شکار ہے۔ بی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے 10 ارکان اسمبلی دوبارہ بی آر ایس کے ساتھی ارکان اسمبلی سے رابطہ میں ہیں اور انہیں کانگریس میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ تقریباً 15 ارکان اسمبلی اپنے سیاسی مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ آئندہ سال جی ایچ ایم سی کے انتخابات ہیں، جس کیلئے گریٹر حیدرآباد کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی پارٹی وابستگی تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ کے سی آر کی جانب سے کویتا کو منانے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے جس کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ کیا کویتا نئی پارٹی تشکیل دے گی؟ یا انہیں کے سی آر منانے میں کامیاب ہوجائیں گے، اس بات پر چرچہ کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ پارٹی میں جاری بحران پر سابق چیف منسٹر و بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے اب تک کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے اور ساتھ ہی کویتا نے بھی ان کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں پر کوئی لب کشائی نہیں کی۔2