بنگلورو۔ 5 ستمبر (یواین آئی) اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی عوامی ریلی کے بعد ریلی کے مقام کو مبینہ طور پر ’شدھی کرن‘کرنے کے معاملہ پر پیدا ہونے والا سیاسی تنازع اب کرناٹک تک پہنچ گیا ہے ۔ بنگلورو پولیس نے اتراکھنڈ کے بی جے پی کے رہنماؤں اور دیگر افراد کے خلاف زیرو ایف آئی آر درج کی ہے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ ایف آئی آر ودھان سودھا پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے ۔ یہ کارروائی کانگریس کے درج فہرست قبائل (ایس ٹی) شعبہ کے سابق نائب صدر ٹی آر رامپا کی شکایت پر کی گئی ہے ۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ بی جے پی کے ارکان اور عہدیداروں نے 10 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ’شدھی کرن‘کی رسم ادا کی تھی۔ کھڑگے نے اس واقعہ سے صرف دو روز قبل اسی مقام پر ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس رسم کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ جلسے کا مقام ناپاک ہوگیا تھا، کیونکہ کھڑگے درج فہرست ذات (ایس سی) سے تعلق رکھنے والے رہنما ہیں اور انہوں نے وہاں جلسے سے خطاب کیا تھا۔ ان الزامات کے بعد کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ایک نیا سیاسی تنازعہ شروع ہوگیا ہے ۔ کانگریس نے اس مبینہ واقعہ اور اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے پہلے معاملہ درج نہ کیے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔
مودی حکومت نے تعلیمی نظام کو معذور بنا دیا :کھرگے
نئی دہلی۔ 5ستمبر (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مرکزی حکومت پر تعلیمی نظام کے تعلق سے شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت نے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر معذور بنا کر کھوکھلا کر دیا ہے ۔ کھرگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ مودی حکومت نے گزشتہ 12 سال میں تعلیم کو معذور بنا دیا اور منظم طریقہ سے اسے کھوکھلا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے نوجوانوں کی ایک پوری نسل کا مستقبل لاپروائی سے برباد اور قربان کر دیا گیا ہے ۔
بنگلورو میں درج ایف آئی آر میں تحفظِ شہری حقوق ایکٹ، درج فہرست ذات و قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات عائد کی گئی ہیں۔توقع ہے کہ پولیس جلد ہی اس ایف آئی آر کو ہلدوانی کے متعلقہ پولیس اسٹیشن منتقل کردے گی۔ کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے نے اتراکھنڈ حکومت پر حملہ تیز کرتے ہوئے کہا کہ جب پہلی مرتبہ شکایت کی گئی تھی، اسی وقت وہاں معاملہ درج کیا جانا چاہیے تھا۔