نئی دہلی : کیرالہ حکومت نے زیر التواء بلوں کو منظور کرنے میں گورنر کی جانب سے مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ تاخیر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے منظور کردہ بلوں سے نمٹنے میں گورنر کی طرف سے غیر معینہ تاخیر نے ریاست کے عوام کو فلاحی قوانین کے فوائد سے محروم کر دیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوں کو طویل اور غیر معینہ مدت تک زیر التواء رکھنے کا گورنر کا طرز عمل بھی واضح طور پر من مانی اور آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ریاست کیرالہ کے لوگوں کو فلاحی قانون کے فوائد سے محروم کرکے ان کے حقوق کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر معمولی تاخیر آئین کے ذریعے تصور کی گئی پارلیمانی جمہوریت کی اسکیم کے منافی ہونے کے علاوہ لوگوں کی اجتماعی مرضی کویکطرفہ طریقے سے پس پشت ڈالنے کے مترادف ہے ۔حکومت نے عرضی میں دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی مقننہ کی طرف سے منظور کردہ اور آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ان کی منظوری کے لئے گورنر کو پیش کیے گئے آٹھ بل زیر التوا تھے ۔ ان میں سے تین بل دو سال سے زائد عرصے سے جبکہ تین ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔حکومت نے دعویٰ کیا کہ گورنر کے طرز عمل سے قانون کی حکمرانی اور جمہوری گڈ گورننس سمیت ہمارے آئین کے بنیادی اصولوں اور بنیادی باتوں کو برباد کرنے کا خطرہ ہے ۔