کینیڈا میں اسکاربرو ضمنی انتخاب میں تینوں بڑی جماعتوں کے امیدوار مسلمان

   

مسلم آبادی کا بڑھتا اثر و رسوخ خوش آئند، اسکاربرو ضمنی انتخاب کی کینیڈین سیاست میں خاص اہمیت

ٹورنٹو۔ 5 ستمبر (ایجنسیز) برطانیہ کے بعد کینیڈا میں بھی مسلم آبادی کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث مسلم اکثریتی علاقوں میں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلمان امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا رجحان نمایاں ہوگیا ہے، ٹورنٹو کے علاقے اسکاربرو میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں تینوں بڑی جماعتوں کے مسلمان امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ اس اہم صوبائی نشست پر لبرل پارٹی نے بنگلہ دیشی نژاد کاروباری شخصیت احسان حافظ، کنزرویٹو پارٹی نے بنگلہ دیشی نژاد ڈاکٹر نور تارون جبکہ این ڈی پی نے مصری نژاد فاطمہ شعبان کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکاربرو کی صوبائی نشست این ڈی پی کی رکن ڈولی بیگم نے خالی کی تھی، جس کے بعد انہوں نے وفاقی سطح پر لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ ڈولی بیگم بنگلہ دیشی نژاد ہیں جبکہ علاقہ کی وفاقی نشست سے پاکستانی نژاد سلمیٰ زاہد بھی متعدد مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوچکی ہیں۔ اسکاربرو کے ضمنی انتخاب کو کینیڈا کی سیاست میں خاص اہمیت دی جارہی ہے اور مبصرین کے مطابق اس کے نتائج سے ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے مسلم ووٹرز کے رجحانات کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کینیڈا میں دیگر مذہبی و نسلی برادریوں کے سیاسی اثر و رسوخ کی مثالیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ٹورنٹو کے علاقہ برمپٹن میں سکھ آبادی کے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث بڑی جماعتوں کی جانب سے سکھ امیدواروں کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ ٹورنٹو کے علاقہ تھارن ہل میں یہودی آبادی کی بڑی تعداد موجود ہے اور وہاں بھی مخصوص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی سیاسی اہمیت نمایاں ہے۔ صوبہ برٹش کولمبیا کے شہر وینکوور میں بھی سکھ برادری کا سیاسی اثر و رسوخ خاصا مضبوط سمجھا جاتا ہے، جہاں مختلف جماعتیں سکھ اکثریتی علاقوں میں سکھ امیدواروں کو ٹکٹ دیتی رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں مسلمانوں کی تعداد گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ 2001 میں ملک میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ 70 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 18 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ کینیڈا میں سکھ آبادی تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار ہے۔ اس کے باوجود وفاقی پارلیمنٹ میں سکھ ارکان کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ رہی ہے۔ کینیڈا کی طرح برطانیہ میں بھی مسلم آبادی والے کئی حلقوں میں بڑی سیاسی جماعتیں مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہیں، جسے وہاں مسلم ووٹرز کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ سے جوڑا جاتا ہے۔ دوسری جانب ٹورنٹو میں ہونے والے وفاقی ضمنی انتخاب میں لبرل پارٹی کے بنگلہ دیشی نژاد امیدوار تنویر شاہنواز نے کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد وہ کینیڈا کی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیشی نژاد دوسرے رکن بن گئے ہیں۔