کینیڈا میں عارضی تارکین وطن کے اہل خانہ کیلئے ورک ویزہ

   

ٹورنٹو: کینیڈا نے ورک فورس کی شدید کمی کو دورکرنے کے لئے عارضی تارکینِ وطن کے خاندان کے افراد کو ورک ویزہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے اقدام سے عارضی غیر ملکی ورکرز اپنے خاندان کے ساتھ اکٹھے رہ سکیں گے۔اپنی طرز کے پہلی بار کیے گئے امیگریشن فیصلے کے تحت کینیڈا میں عارضی طور پر آئے بیرونی ورکرز کے شریک حیات اور کام کرنے کی عمر کے بچے اب ملک میں آکر قانونی طور پر کام کر سکیں گے۔کینیڈا کے وزیر برائے امیگریشن، پناہ گزینوں اور شہریت شان فریزر کے مطابق یہ پروگرام جنوری 2023 میں شروع کیا جارہا ہے اور یہ دو سال تک جاری رہے گا۔ فریزر نے اس مہینے کے شروع میں پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جہاں بھی جاتا ہوں، ملک بھر کے آجر کارکنوں کی کمی کو اپنے کاروبار کی بہتری میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔فریزر کے مطابق نئے پروگرام کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد غیر ملکی کارکنوں کے خاندان کے افراد کینیڈا میں کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔نئے اقدام سے آجروں کو ان کارکنوں کو تلاش کرنے میں بھی مدد ملے گی جن کی انہیں اہلیت کی تمام سطحوں پر خاندانی ممبران کے لیے ورک پرمٹ کی توسیع کے ذریعے مزدوری کے خلا کو پْر کرنے کی ضرورت ہے۔امیگریشن کے وزیر کے بقول ہماری حکومت مزدوروں کی کمی پر قابو پانے کے لیے آجروں کی مدد جاری رکھے گی، ساتھ ہی ساتھ کارکنوں کی فلاح و بہبود اور ان کے خاندانوں کو متحد کرنے میں بھی مدد کرے گی۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ایک ایسے لیڈر ہیں جن کے دل میں نہ صرف ملک کے عوام بلکہ ایسے دیگر تارکین وطن جو کینیڈا میں آباد ہیں، کیلئے ہمدردی کا زبردست جذبہ پایا جاتا ہے۔