کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو طبقاتی سروے میں حصہ لینے کا مشورہ

   

28 فروری تک اندراج کی سہولت، مسلم پسماندہ خاندانوں کی بی سی فہرست میں شمولیت: پونم پربھاکر
حیدرآباد ۔13۔فروری (سیاست نیوز) وزیر بہبودی پسماندہ طبقات پونم پربھاکر نے کہا کہ طبقاتی مردم شماری کی کامیاب تکمیل کے ذریعہ تلنگانہ نے ملک کی دیگر ریاستوں کو نئی راہ دکھائی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پربھاکر نے کہا کہ 96 فیصد سے زائد خاندانوں نے سروے میں حصہ لیا اور سروے کو صد فیصد مکمل کرنے کیلئے حکومت نے 16 تا 18 فروری دوبارہ سروے کا اعلان کیا ہے جس میں ایسے خاندان شرکت کرسکتے ہیں جنہوں نے پہلے سروے میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت کا مقصد ریاست میں اقلیتوں کی حقیقی آبادی کا تعین کرنا ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ بی آر ایس قائدین اس سہولت کو دوبارہ سروے کا نام دے رہے ہیں، حالانکہ یہ دوبارہ سروے نہیں بلکہ سروے میں حصہ لینے سے محروم افراد کو موقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سروے سے متعلق الزام تراشی کے ذریعہ بی آر ایس قائدین عوام کو الجھن میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ جمہوریت پر اگر ایقان ہو تو بی آر ایس قائدین کو سروے میں حصہ لیتے ہوئے اپنی سنجیدگی ظاہر کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی صنعتی گھرانوں کی بھلائی میں دلچسپی رکھتی ہے اور اسے بی سی طبقاتی سروے اور ایس سی زمرہ بندی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ عوام کی توقعات کے مطابق تلنگانہ میں بی سی تحفظات کا تعین کیا جائے گا ۔ سروے کی تکمیل کے بعد مجالس مقامی میں بی سی تحفظات کا تعین کیا جائے گا جس کے بعد انتخابات منعقد ہوں گی۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ مارچ کے پہلے ہفتہ میں اسمبلی میں تحفظات قانون کو منظوری دی جائے گی اور مرکز کو روانہ کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیراعظم نریندر مودی سے نمائندگی کیلئے کل جماعتی وفد کی قیادت کا فیصلہ کیا ہے۔ سماجی انصاف کی فراہمی کانگریس کی اولین ترجیح ہے اور حکومت اپوزیشن کی تنقیدوں کی پرواہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی قائدین پسماندہ طبقات اور مسلمانوں سے انصاف کو روکنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں میں موجود بی سی طبقات کو پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ مجالس مقامی میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے تعین کیلئے حکومت نے خصوصی کمیشن قائم کیا تھا جس نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ پونم پربھاکر نے کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ سے مطالبہ کیا کہ وہ سروے میں حصہ لیتے ہوئے اپنی تفصیلات درج کرائیں۔ 1