زرعی شعبہ کوبرقی میٹرس پر لفظی جنگ، حکومت ہند کے گزٹ اور ترمیمی بل میں کافی فرق
حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) زرعی پمپ سیٹس کو میٹرس نصب کرنے کے مسئلہ پر کے سی آر اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے لیکن اس معاملہ میں موقف کے اعتبار سے کے سی آر درست ہیں تو دوسری طرف بی جے پی بھی غلط نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے الیکریسٹی ترمیمی بل کے مسئلہ پر اسمبلی میں مباحث کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دعوی کیا تھا کہ مرکز نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے میٹر کے بغیر زرعی شعبہ کو برقی سربراہ کرنے سے روک دیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے دعوی کیا کہ الیکٹریسٹی ترمیمی بل اگسٹ میں متعارف کیا گیا جس میں زرعی پمپ سیٹس کیلئے میٹرس کی تنصیب کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ دعوی اور جوابی دعوی کے درمیان جب الیکٹریسٹی ترمیمی بل 2022 کا تجزیہ کیا گیا تو اس بات کا پتہ چلا کہ نئے بل میں میٹرس کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ چیف منسٹر جس گزٹکا تذکرہ کررہے ہیں وہ سابق میں جاری کیا گیا تھا۔ کے سی آر ڈسمبر 2020 میں جاری کردہ گزٹ کا حوالہ دے رہے ہیں اور انہوں نے سیکشن 5 کو اسمبلی میں پڑھ کر سنایا۔ کے سی آر نے کہا تھا کہ گزٹ کے مطابق کوئی بھی برقی کنکشن میٹر کے بغیر جاری نہ کیا جائے اور تمام میٹرس پری پیڈ ہوں گے۔ چیف منسٹر کے دعوی کے مطابق یہ گزٹ ہفتہ کے دن ریاستی حکومت کو حاصل ہوا۔ الیکٹریسٹی ترمیمی بل 2022کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ اس میں میٹرس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ر
اس بل کو پیش کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کے سی آر کے دعوی کی تردید کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اترپردیش کے انتخابات میں بی جے پی نے مفت برقی سربراہی کا وعدہ کیا تھا لیکن تین تا چار اضلاع میں برقی میٹرس نصب کئے گئے اور کسانوں نے برقی میٹرس کو نکال کر برقی دفاتر میں پھینک دیا۔ مرکزی وزارت فینانس نے 15 ویں فینانس کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر کہا کہ میٹر کی تنصیب الیکٹریسٹی ترمیمی بل کا حصہ نہیں ہے۔ زرعی شعبہ کو برقی میٹرس کی تنصیب کے بارے میں دونوں قائدین کے دعوے اپنی جگہ درست ہیں۔ کے سی آر گزٹ کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ بنڈی سنجے نے ترمیمی بل کو پیش کیا ہے۔ر