گاندھیائی نظریات سے ہندوستان کو عالمی لیڈر بنائیں

   

گاندھی جی کا خواب … اقتدار محض شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ گائوں گاؤں پھیلے

نئی دہلی: مہاتما گاندھی کی موجودہ دور میں اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اندراگاندھی نیشنل سینٹر فار دا آرٹس کے صدر پدم شری رام بہادر رائے نے کہا کہ گاندھی ایک کرم یوگی اور بنیادی طور پر ایک سیاسی انسان تھے ، وہ معروف معنوں میں فلسفی یا مفکر نہیں تھے مگر ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہر آنے والی مشکل کو دور کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیتے تھے۔ انہوں نے قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں ‘بابائے قوم موہن داس کرم چند گاندھی کی نظر میں ہندوستان کا تصور’ کے عنوان سے خصوصی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی کی شخصیت کھلی کتاب کی طرح ہے ، لیکن دیگر مصلحین کی طرح انھوں نے اپنے فلسفہ و نظریات کو یکجا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ بعد والی نسلوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ان کی زندگی کو پڑھیں اور سمجھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاندھی کے سپنوں کا ہندوستان وہ ہے جو انھوں نے 1942 میں کہا تھا کہ آزاد ہندوستان میں حکومت ہندوستانیوں کی ہوگی۔ اسی طرح گاندھی کے سپنوں کا ہندوستان یہ ہے کہ سیاسی اقتدار محض شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ گاؤں تک اس کا دائرہ پھیلا یا جائے ، جسے گرام سوراج بھی کہا جاتا ہے ۔ ‘میرے سپنوں کا بھارت’ ایک ایسی کتاب ہے جس میں سوراج، حب الوطنی، جمہوریت، قومی زبان اور رسم الخط، رام سوراجیہ،اقلیت، مذہبی رواداری وغیرہ پر گاندھی کے نظریات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ رام بہادر رائے نے گاندھی کی عصری معنویت کے حوالے سے کہا کہ جس طرح گاندھی جی کی اہمیت ان کے دور میں تھی اسی طرح آج بھی قائم ہے اور ان کے نظریات پر عمل کرکے ہم ہندوستان کو ہر سطح پر ترقی یافتہ اور عالمی قیادت کے لائق بناسکتے ہیں۔