صنعتکاروں ، تاجرین اور اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کا انتخاب لڑنے سے شائستہ انکار
دونوں نشستوںکے حدود میں ریاست کے 77 اسمبلی حلقے ، 10لاکھ سے زائد ووٹرس ، ہائی وولٹیج ڈرامہ
حیدرآباد :28ستمبر ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں مجوزہ دو گریجویٹ قانون ساز کونسل کے انتخابات نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور ممکنہ امیدوارو ں کو گہری تشویش اور تناؤ میں مبتلا کردیا ہے ۔ تعلیم یافتہ طبقہ کی نمائندگی کرنے والے ان انتخابات میں ذات پات کے بڑھتے ہوئے اثرات ، بے تحاشہ انتخابی اخراجات اور ووٹرس کی جانب سے مالی مطالبات نے سیاسی حلقوں میں بے چینی پھیلا دی ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہیکہ ووٹرس کے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ہر ووٹ کی قیمت طلب کئے جانے کے ماضی کے تجربات نے سیاسی جماعتوں اور صنعتکاروں کے ہوش اڑا دیئے ہیں ۔ ریاست کی دو اہم گریجویٹ نشستوں ( حیدرآباد ، رنگاریڈی ، محبوب نگر )اور کھمم ، ورنگل ، نلگنڈہ ) کے تحت تلنگانہ کے جملہ 119 اسمبلی حلقوں میں سے 77 اسمبلی حلقے ان دونوں گریجویٹ نشستوں میں شامل ہیں ۔ حیدرآباد حلقہ میں جہاں 43 اسمبلی حلقے ہیں وہیں ورنگل کونسل حلقہ میں 34حلقے شامل ہیں ۔ 2021 کی تفصیلات کے مطابق ان دونوں حلقوں میں مجموعی طور پر 10لاکھ سے زائد ووٹرس درج ہیں ۔ اس بار ووٹرس کی تعداد میں مزید اضافہ کے امکانات کے پیش نظر تخمینہ لگایا جارہا ہیکہ ہر بڑی سیاسی پارٹی کو ان دو نشستوں پر الیکشن جیتنے کیلئے کم از کم 200کروڑ روپئے سے زیادہ کی رقم خرچ کرنی پڑے گی ۔ انتخابی مہم ، کارکنوں کی مالی امداد ،جلسے جلسوس ، پارٹی مواد اور دیگر تمام ذرائع کو ملاکر اگر حساب لگایا جائے تو تمام جماعتوں کا جملہ خرچ 500 کروڑ روپئے سے تجاوز کرجانے کا خدشہ ہے ۔ اتنے بھاری اخراجات اور ذات پات پر مبنی مساوات کو دیکھتے ہوئے کئی ممتاز شخصیات ، اجروں ، صنعتکاروں اور ان کے رشتہ داروں نے جنہیں پارٹیاں امیدوار بنانا چاہتی تھیں اس الیکشن سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا ہے ۔ جب جماعتیں ان سے رابطہ کررہی ہیں تو وہ شائستگی کے ساتھ ایم ایل سی کا انتخاب لڑنے سے معذورت کررہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایم ایل سی الیکشن پر کروڑہا روپئے ڈبونے کے بجائے اگر انہیں کسی بھی اسمبلی حلقہ کا ٹکٹ یا ذمہ داری دی جائے تووہ اپنا تمام خرچہ خود برداشت کر کے اسمبلی الیکشن جیت کر دکھائیں گے اور پارٹی پر کوئی بوجھ پڑنے نہیں دیں گے ۔ تاہم گریجویٹ ایم ایل سی نشستوں کیلئے اتنی بڑی رقم حرچ کرنے کی منطق پر خود پارٹی قائدین میں زبردست بحث چھڑ چکیہے ۔ اگرچہ کہ ان انتخابات میں ابھی تقریباً چھ ماہ کا وقت ہے لیکن ابھی سے اخراجات کے معاملے میں قائدین مقابلہ کرنے سے کتراتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ حکمراں جماعت کانگریس اور اصل اپوزیشن بی آر ایس کے علاوہ بی جے پی صفوں کا ماننا ہیکہ ان دو ایم ایل سی نشستو ں کی ہار جیت سے اگرچہ کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس کا ریاست کی سیاست کے مجموعی ماحول اور عوام کے مزاج پر زبردست اثر پڑے گا ۔ 2/S/i