گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ، گریٹر سکندرآباد میونسپل کارپوریشن تشکیل دینے کی تجویز

   

ترقی کیلئے حیدرآباد کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا !
جی ایچ ایم سی کے حدود کو آوٹر رنگ روڈ تک توسیع دی جائے گی ، جائزہ لینے کابینی سب کمیٹی تشکیل
حیدرآباد /2 اگست ( سیاست نیوز ) تلنگانہ حکومت نے آوٹر رنگ روڈ تک موجود علاقوں کو دونوں گریٹر میونسپل کارپوریشنس میں تقسیم کرنے کا تقریباً فیصلہ کرلیا ہے ۔ او آر ار تک موجود میونسپٹیز اور چند دیہی علاقوں کو ایک کارپوریشن میں ضم کرنے پر تکنیکی مسائل پیدا ہونے کا عہدیدار اندازہ لگارہے ہیں ۔ جب اس سے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو واقف کروایا گیا تو انہوں نے دو کارپوریشنس تشکیل دینے کا ہمدردانہ غور کرنے کا عہدیداروں کو مشورہ دیا ہے ۔ سارا ممبئی شہر دو کارپوریشنس میں تقسیم ہے ۔ جس کی وجہ سے تیز رفتار ترقی ممکن ہو رہی ہے اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں ۔ ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد شہر کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے دو کارپوریشنس کی تشکیل کیلئے منصوبہ تیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔ میونسپلٹیز اور مقامی گرام پنچایت کی گریٹر حیدرآباد میں انضمام کیلئے جمعرات کو منعقدہ کابینہ اجلاس میں بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس سے قبل منعقدہ کابینہ اجلاس میں شہر کے مضافاتی علاقوں کو گریٹر حیدرآباد میں ضم کرنے پر تبادلہ خیال ہوا تھا ۔ ریاست کے صدر مقام حیدرآباد کو آوٹر رنگ روڈ تک توسیع دینے اس کے حدود میں شامل 2,100 کیلومیٹر کے علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور دوسرا گریٹر سکندرآباد میونسپل کارپوریشن میں تقسیم کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ان دونوں کارپوریشنس کیلئے ڈیویژنس کی ازسرنو حد بندی کرنے کی ضرورت ہے ۔ حیڈرا کے عہدیدار ڈیویژنس کے نگران ان کے بعد کے درج کے عہدیدار سرکلس اور زونس کے انچارجس ہوں گے ۔ اسی طرز پر دو گریٹر شہروں کا نیا انتظامی نظام تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ جس کی وجہ سے حیڈرا کی تشکیل میں تمام احتیاطی اقدامات کرنے کی چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں 7 میونسپل کارپوریشن 20 میونسپلٹی اور 33 گرام پنچایتیں ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ اور دوسرے ادارے بھی ہیں ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے آوٹر رنگ روڈ سے متصل 10 دیگر گرام پنچایتوں کو جی ایچ ایم سی ضم کرنے کی تجاویز تیار کی ہے ۔ گرام پنچایتوں کی معیاد مکمل ہوچکی ہے ۔ انہیں قریبی میونسپلٹیز میں ضم کردیا جائے گا ۔ دیگر میونسپلٹیز اور دیگر میونسپل باڈیز کی میعاد جنوری 2025 کو تکمیل ہو رہی ہے ۔ تب انہیں جی ایچ ایم سی میں ضم کیا جائے گاے ۔ جن دیہاتوں کو ضم نہیں کیا جاسکتا انہیں علحدہ میونسپلٹی قرار دیا جائے گا ۔ بعد ازاں جی ایچ ایم سی کو دو حصوں میں تقسیم کرکے حکومت دو گریٹر شہروں کا اعلان کرے گی ۔ جی ایچ ایم سی کو آوٹر رنگ روڈ تک توسیع دینے سے حیدرآباد میٹرو پولیٹنس ڈیولپمنٹ اتھاریٹی HMDA کا دائرہ بھی مزید بڑھ جائیگا ۔ اس طرح ایچ ایم ڈی اے کے زونس کی تعداد بھی دوگی ہوجائے گی ۔ ان تمام امور کا جائزہ لینے کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ جو مختلف اجلاس طلب کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کریگی ۔ 2