توہین عدالت کی کارروائی کرنے ریاستوں کو انتباہ
نئی دہلی :سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو انتباہ دیا ہے کہ اگر وہ گمراہ کن اشتہارات کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ دراصل جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے سینئر وکیل شادان فراست کی طرف سے پیش کردہ نوٹ کا جائزہ لیا اور یہ دیکھا کہ کئی ریاستیں متعلقہ ہدایات پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔بنچ نے کہا کہ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ نے متعلقہ ہدایات پر عمل آوری نہیں کی ہے تو ہمیں متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے خلاف عدالت کی توہین کے ضابطہ 1971 کے تحت کارروائی شروع کرنی پڑ سکتی ہے۔گمراہ کن اشتہارات سے متعلق معاملہ 2022 میں انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے وقت عدالت عظمیٰ کے سامنے اٹھا تھا جس میں پتنجلی آیوروید لیمٹڈ پر کووڈ ٹیکہ کاری مہم اور جدید طبی طریقوں کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے میڈیا میں شائع یا دکھائے جا رہے گمراہ کن اشتہارات کے پہلو کو اْجاگر کیا تھا جو دوا اور جادوئی علاج (قابل اعتراض اشتہار) قانون، 1954 اور متعلقہ ضوابط ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور صارفین تحفظ ایکٹ 1986 کے نظم کے برعکس ہے۔