گورنر نے ٹوئٹر پر میڈیکل کالجس معاملہ میں حکومت کو نشانہ بنایا

   

تلنگانہ حکومت سوتی رہی، چیف سکریٹری کے خلاف ریمارک کے بعد حکومت پر دوسرا حملہ

حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہورہا ہے۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے ٹوئٹر پر کے سی آر حکومت کو مختلف مسائل کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا نیا راستہ تلاش کرلیا ہے۔ گذشتہ ہفتہ چیف سکریٹری شانتی کماری کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے پس منظر میں نشانہ بنایا گیا اور آج میڈیکل کالجس کے مسئلہ پر گورنر نے ٹوئٹر پر حکومت پر کالجس کی منظوری کے حصول میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ گورنر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ جب ہر ریاست نے PMSSY اسکیم کے تحت نئے میڈیکل کالجس کیلئے درخواست داخل کی لیکن تلنگانہ مقررہ مدت میں درخواست داخل کرنے میں ناکام رہا۔ مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویا کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے لکھا کہ ’’ آپ سوتے رہے اور تاخیر سے جاگ کر درخواست دی۔ ٹاملناڈو نے صرف ایک سال میں 11 میڈیکل کالجس حاصل کئے ہیں۔‘‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گورنر نے ہر ہفتہ ایک موضوع پر سوشیل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ کے سی آر حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ پردھان منتری سواستھ سرکھشا یوجنا کے تحت میڈیکل کالجس کے قیام کے لئے تلنگانہ حکومت نے تاخیر سے درخواست داخل کی۔ ٹوئٹر پر سوندرا راجن کو مختلف گوشوں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جواب دیا جس میں حکومت کی تائید میں ان کے سابق میں دیئے گئے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایک ٹوئیٹ میں گورنر نے ملک کے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج کے قیام سے متعلق فیصلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ستائش کی ہے اور کہا کہ اس فیصلہ سے مستقبل میں میڈیکل ٹوریزم کو فروغ حاصل ہوگا۔ ایک شہری نے جب یہ سوال کیا کہ میڈیکل کالجس کے معاملہ میں مرکز نے تلنگانہ سے ناانصافی کی ہے۔ اس پر گورنر نے مقررہ مدت میں درخواست داخل نہ کرنے کیلئے تلنگانہ حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ گورنر نے مرکزی وزیر صحت کے بیان کا حوالہ دیا۔ شہریوں نے گورنر کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیا۔25 اپریل 2022 کو گورنر نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ وزیر اعظم کے ویژن کے تحت تلنگانہ کو نئے میڈیکل کالجس کے حصول کا آغاز ہوا ہے۔ ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج ہوگا۔ گورنر کے ٹوئیٹ پر عوام کی جانب سے متضاد ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے 10 سرکاری بلز کی عدم منظوری کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے جس پر گورنر نے چیف سکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ ڈیئر ! چیف سکریٹری نئی دہلی سے زیادہ قریب راج بھون ہے۔‘‘ گورنر نے چیف سکریٹری پر خیرسگالی ملاقات نہ کرنے اور پروٹوکول کی پابندی نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ر