وزیر تعلیم کی وضاحت کے باوجود منظوری نہیں، پرگتی بھون اور راج بھون میں خلیج برقرار
حیدرآباد۔/20 نومبر، ( سیاست نیوز) ریاستی یونیورسٹیز میں تقررات کیلئے مشترکہ ریکروٹمنٹ بورڈ کی تشکیل سے متعلق بل گذشتہ دو ماہ سے گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کی منظوری کا منتظر ہے۔ گذشتہ ہفتہ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی اور اعلیٰ عہدیداروں نے گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے بل کی افادیت اور ضرورت سے واقف کرایا تھا باوجود اس کے گورنر نے مذکورہ بل کو منظوری نہیں دی ہے۔ جس کے نتیجہ میں راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان دوریاں اور تلخیاں واضح طور پر دکھائی دینے لگی ہیں۔ حکومت کو امید تھی کہ وزیر تعلیم کی ملاقات کے بعد گورنر کے موقف میں نرمی آئے گی لیکن ذرائع کے مطابق گورنر نے بل کے بارے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی رائے حاصل کی ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ یو جی سی قواعد کے مطابق تمام یونیورسٹیز میں تقررات کیلئے مشترکہ رکروٹمنٹ بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ گورنر نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے کہ آیا یہ بل یو جی سی قواعد کے مطابق ہے یا نہیں۔ حکومت کے دعویٰ کے مطابق ریاستی حکومت کو یو جی سی نے مشترکہ ریکروٹمنٹ بورڈ کے قیام کی اجازت دی ہے۔ گورنر کو اندیشہ ہے کہ مذکورہ بل کے نتیجہ میں ریاستوں کی خودمختار حیثیث ختم ہوجائے گی۔ بل میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ وائس چانسلر کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور فیکلٹیز کے تقررات کے سلسلہ میں قواعد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ریاستی یونیورسٹیز میں تقریباً 2 ہزار سے زائد جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور اگر گورنر بل کی منظوری میں تاخیر کرتی ہیں تو اس سے یونیورسٹیز میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں کیونکہ ہر سال کئی ٹیچنگ فیکلٹیز وظیفہ پر سبکدوش ہورہے ہیں۔ گورنر نے وزیر تعلیم، کمشنر کالجیٹ ایجوکیشن، سکریٹری محکمہ تعلیم اور صدرنشین کونسل فار ہایئر ایجوکیشن سے ملاقات کے دوران واضح کردیا تھا کہ مذکورہ بل کے بارے میں انہیں تحفظات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تکنیکی اعتبار سے مشترکہ ریکروٹمنٹ بورڈ کی تشکیل کی صورت میں ریاستی یونیورسٹیز کی انفرادیت ختم ہوجائے گی۔6 یونیورسٹیز ایسی ہیں جہاں فوری طور پر تقررات کی ضرورت ہے اور تقررات کے سلسلہ میں ہزاروں امیدوار نوٹیفکیشن کے منتظر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بہار میں 1960 سے تمام یونیورسٹیز کے تقررات علحدہ کمیشن کے ذریعہ مکمل کئے جاتے ہیں اور کمیشن کو تلنگانہ میں کامن ریکروٹمنٹ بورڈ کی شکل دی جارہی ہے۔ یونیورسٹیز میں علحدہ تقررات کی صورت میں کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات کے علاوہ بعض قانونی رکاوٹیں درپیش ہورہی تھیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ مشترکہ ریکروٹمنٹ بورڈ کے ذریعہ تقررات کا عمل مکمل کرے۔ر