نئی دہلی :سپریم کورٹ نے بلوں کو منظوری دینے میں گورنر کی طرف سے تاخیر کے خلاف پنجاب حکومت کی عرضی پر پنجاب کے گورنر بنواری لال پروہت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ آخر گورنر حکومت سے تال میل کیوں نہیں کر پاتے۔ ہر بار معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچتا ہے جبکہ گورنر کو معاملہ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی سلجھا لینا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ گورنرس کو تھوڑا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنرس کو اس بات سے انجان نہیں رہنا چاہیے کہ وہ منتخب افسر نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کے عدالتوں میں جانے کے بعد ہی گورنر بلوں پر کارروائی کیوں نہیں کرتے ہیں؟ اسے ختم کرنا ہوگا ۔ سماعت میں پنجاب کے گورنر کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریاست کے گورنر نے ان کے پاس بھیجے گئے بلوں پر کارروائی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے داخل عرضی غیر ضروری مقدمہ ہے۔ یہ سن کر سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل کو پنجاب اسمبلی کی طرف سے پاس بلوں پر گورنر بنواری لال پروہت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدام پر اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔