گورکھپور میں مسجد کو منہدم کرنے جی ڈی اے کا15 دن کا الٹی میٹم

,

   

میونسپل کارپوریشن کی زمین پر مبینہ غیرمجاز طریقہ سے تعمیر کا الزام

لکھنؤ :اتر پردیش کے گورکھپور میں جی ڈی اے (گورکھپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی) نے میونسپل کارپوریشن کی زمین پر مبینہ طور پر ناجائز طریقے سے بنائی گئی مسجد کو منہدم کرنے کیلئے15 دنوں کا الٹی میٹم دیا ہے۔ گورکھپور کے گھوش کمپنی چوراہے کے پاس میونسپل کارپوریشن کی 47 ڈسمل زمین پر بغیر نقشہ کی منظوری کے بنی تیسری منزل کو منہدم کرنے کا جی ڈی اے نے حکم جاری کیا تھا۔ 15 فروری کو مسجد کے مرحوم متولی کے بیٹے شعیب احمد کو نوٹس دے کر 15 دن میں خود ہی تعمیر ہٹانے کو کہا گیا تھا۔ ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ اگر یہ خود سے ناجائز تعمیر کو نہیں ہٹائیں گے تو جی ڈی اے خود اسے منہدم کرائے گا اور اس کا خرچ مسجد تعمیر کرنے والوں سے وصول کیا جائے گا۔دراصل گورکھپور میںواقع گھوش کمپنی چوراہے کے پاس میونسپل کارپوریشن کی 47 ڈسمل زمین پر گزشتہ 50 سالوں سے قبضہ تھا۔ اس قبضہ کو میونسپل کارپوریشن نے 25 فروری 2024 کو ایک مہم چلا کر ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش کے تحت وہاں موجود 31 دکانوں اور 12 رہائشی احاطہ کو ہٹایا گیا تھا۔ اس دوران وہاں موجود مسجد کو بھی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے گرانے کی کوشش کی گئی لیکن مسجد کے متولی اور دیگر کئی لوگوں نے اس کی شدید مخالفت کی جس سے انہدامی کارروائی نہیں ہو سکی۔بعد ازاں میونسپل کارپوریشن نے مسجد تعمیر کے لیے 60 اسکوائر میٹر زمین جنوب مشرقی گوشے میں دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بعد میونسپل کارپوریشن بورڈ نے اسے منظوری بھی دے دی تھی۔ مسجد کی تعمیر کا عمل بھی شروع ہو گیا تھا۔ جی ڈی اے کے مطابق بغیر نقشہ منظوری کے گھوش کمپنی چوراہے کے پاس مسجد کی تعمیر ناجائز طریقے سے کی گئی ہے۔ اس کے بعد مسجد کے نام 3 مرتبہ نوٹس بھی جاری کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد اب انتظامیہ نے 15 دنوں میں خود ہی مسجد کو توڑنے کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں کرنے پر جی ڈی اے خود مسجد کو گرائے گا۔ مسجد کے متولی نے جی ڈی اے کے حکم کے خلاف کمشنر کورٹ میں اپیل کی ہے۔ فی الحال ابھی اس مسئلہ پر کوئی بھی ایڈمنسٹریٹو آفیسر کیمرے کے سامنے بولنے کو تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف مسجد کمیٹی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔