گیانیش کمار 48 گھنٹوں میں استعفی دیں ورنہ ملک گیر احتجاج ہوگا

,

   

جنتر منتر 2.0شروع کرنے کا اشارہ :سی جے پی کا شدید رد عمل
نئی دہلی، 24 ستمبر (یو این آئی) کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر 48 گھنٹے میں کمار نے استعفیٰ نہیں دیا تو پارٹی ملک گیر تحریک شروع کرے گی اور ان کے استعفے کے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گی۔سی جے پی کے بانی ابھجیت دپکے نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کمار کے الیکشن کمشنر بننے کے بعد مہاراشٹرا اور اتر پردیش میں دو کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے ، جبکہ مغربی بنگال میں97 لاکھ افراد کو ووٹ سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 13 کروڑ ووٹ ہٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جیتنے والے این ڈی اے اور شکست خوردہ انڈیا اتحاد میں صرف تین فیصد کا فرق تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹایا جانا انتخابی نتائج پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے ۔ دپکے نے الزام لگایا کہ انتخابی نشان سے جڑے معاملات میں بھی الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ این سی پی اور شیو سینا کے انتخابی نشانات چھین کر بی جے پی کی ‘شیل ‘پارٹیوں کو دیے گئے ۔ بنگال میں ترنمول کانگریس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اور انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔ سی جے پی کے جوائنٹ کنوینر آشوتوش رانکا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جمہوریہ بننے کے بعد سے ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں زیادہ تر ووٹر غریب تھے ، تب بھی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور پنڈت جواہر لال نہرو نے ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق دیا تھا، لیکن اب 13 کروڑ ووٹروں کو ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔

گیانیش کمار کی بیدخلی کیلئے اپوزیشن سرگرم
پارلیمنٹ میں نئی نوٹس پیش کی جائیگی ۔ تیز کارروائی کیلئے ترنمول کا مطالبہ
نئی دہلی 24 ستمبر ( ایجنسیز ) چیف الیکشن کمشنر مسٹر گیانیش کمار کے خلاف تازہ انکشافات کے بعد ان کی بیدخلی کیلئے اپوزیشن جماعتیں دوبارہ سرگرم ہو رہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے گیانیش کمار کی بیدخلی کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نئی نوٹس پیش کی جائے گی ۔ چیف الیکشن کمشنر کی علیحدگی کیلئے راجیہ سبھا میں جاریہ سال 24 اپریل کو پیش کی گئی نوٹس ابھی تک زیر التواء ہے اور صدر نشین سی پی رادکھا کرشنن نے تاحال کوئی فیصلہ اس پر نہیں کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر مشترکہ جدوجہد کا بھی منصوبہ بنا رہی ہیں اور بہت جلد انڈیا اتحاد کا اجلاس منعقد ہوسکتا ہے ۔ ایک سینئر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مشترکہ منصوبہ کی تفصیلات کو قطعیت دینے ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوگیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ترنمول کانگریس کا اصرار ہے کہ اس مسئلہ پر تیز رفتار کارروائی کی جائے گی اور اپوزیشن کو تن آسانی سے کام نہیں لینا چاہئے ۔