گیانیش کمار کیخلاف حیدرآباد میں کانگریس کی احتجاجی ریالی

   

چیف الیکٹورل آفیسر کو یادداشت، گیانیش کمار سے استعفی کا مطالبہ، مہیش کمار گوڑ اور ریاستی وزراء کی شرکت

حیدرآباد۔ 28 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج حیدرآباد میں احتجاجی مارچ منظم کیا گیا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفی کی مانگ کی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے SIR مہم میں مبینہ بے قاعدگیوں کے منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس پارٹی نے ملک گیر سطح پر احتجاج کا فیصلہ کیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ قیادت میں نیکلس روڈ سے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر بی آر کے بھون تک ریالی منظم کی گئی۔ کانگریس قائدین نے چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی کو یادداشت پیش کی۔ احتجاجیوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے علامتی پتلے نظر آتش کئے۔ احتجاج میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، ریاستی وزراء پونم پربھاکر، سریدھر بابو، محمد اظہر الدین، جی ویویک وینکٹ سوامی کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی مختلف کارپوریشنوں کے صدور نشین اور سینئر قائدین نے شرکت کی۔ احتجاجی ریالی میں کارکنوں کی کثیر تعداد شریک تھی جن کا تعلق حیدرآباد اور رنگاریڈی سے تھا۔ یادداشت میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے بے قاعدگیوں کے لئے گیانیش کمار سے فوری استعفی کی مانگ کی گئی۔ کمیشن میں موجود دو الیکشن کمشنرس نے گیانیش کمار کے فیصلوں پر اعتراض جتایا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور دیگر قائدین نے احتجاجی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار نے بی جے پی کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچانے کے لئے کئی غیر قانونی فیصلے کئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل کئی ریاستوں میں لاکھوں کی تعداد میں ناموں کو حذف کردیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے الیکشن کمیشن کا سہارا لے کر بنگال، بہار اور دیگر ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے آلہ کار کے طور پر کام کیا اور مخالف بی جے پی رائے دہندوں کے نام بڑی تعداد میں حذف کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کے ذریعہ جمہوریت کا قتل کیا گیا اور بہار اور مغربی بنگال میں اپوزیشن کو کامیابی سے روکتے ہوئے بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست گیر سطح پر کانگریس پارٹی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کرے گی۔ 1؍F