ہائی کورٹ کی کشادہ مقام پر منتقلی کیلئے تلنگانہ ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کی تجویز

   


حیدرآباد ۔ 16 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن نے کل جنرل باڈی اجلاس میں یہ تجویز رکھی کہ ہائی کورٹ کو موجودہ مقام سے کسی کشادہ مقام پر منتقل کیا جائے ۔ بار اسوسی ایشن کے صدر وی رگھوناتھ نے کہا کہ ان کی یہ تجویز ہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کو اس کے موجودہ مقام سے کسی کشادہ جگہ منتقل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے موجودہ حالات اور مسائل نے انہیں یہ تجویز پیش کرنے پر مجبور کیا ہے ۔ رگھوناتھ نے کہا کہ 2008 میں ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن ایگزیکٹیو کمیٹی نے نئی ہائی کورٹ عمارت کے لیے اراضی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ نہیں ہوسکا ۔ رگھوناتھ نے کہا کہ موجودہ ہائی کورٹ بلڈنگ کا رقبہ 18 ایکرس پر ہے ۔ تقریبا 17 ایکڑ زمین پارکنگ کے لیے دی گئی ہے ۔ تجزیہ کے مطابق پارکنگ لاٹ کپاسٹی تقریبا 500 گاڑیاں کے لیے ہے ۔ ہر پیر اور جمعہ کو ہائی کورٹ کو بہت زیادہ تعداد میں گاڑیاں آتی ہیں اس طرح 1200 تا 1400 فور وہیلر گاڑیاں احاطہ ہائی کورٹ میں داخل ہوتی ہیں اور منگل سے جمعرات تک تقریبا 1200 فور وہیلرس ہائی کورٹ کے احاطہ میں پارک کی جاتی ہیں ۔ 10-30 تا 11 بجے کے بعد ہائی کورٹ میں گاڑی رکھنا ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے ۔ ایڈوکیٹس کو گاڑیاں پارک کرنے کے لیے ایک تا دو گھنٹے ہوتے ہیں ۔ اس طرح کے حالات میں ایڈوکیٹس ان کی گاڑیوں کو لاپرواہی سے چھوڑ دیتے ہیں جس سے دوسروں کے لیے بہت مسائل ہورہے ہیں ۔ اس سے سڑک پر مسئلہ ہورہا ہے اور ٹریفک پولیس اور وکلاء کے درمیان بحث و تکرار ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارکنگ کیلئے خاطر خواہ جگہ نہ ہونے کے باعث نہ صرف ایڈوکیٹس بلکہ مقدمات کے فریقین کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ چونکہ سیکوریٹی کے لوگ باہر کے لوگوں کی گاڑیوں کو کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے ہیں اس لیے انہیں عدالت کے باہر ان کی گاڑیاں پارک کرنا پڑرہا ہے اور رانگ پارکنگ کیلئے جرمانہ ادا کرنا پڑرہا ہے ۔ ان حالات کے مد نظر بار اسوسی ایشن کے صدر وی رگھوناتھ نے جنرل باڈی میں تجویز رکھی کہ حیدرآباد میں چار مقامات نئی ہائی کورٹ بلڈنگ کیلئے نہایت موزوں ہیں ۔ وہ ہیں ملک پیٹ کالونی جہاں گورنمنٹ کوارٹرس ہیں اور ان میں کوئی نہیں ہے ۔ انہیں منہدم کر کے 80 ایکڑ اراضی کو نئے ہائی کورٹ کیلئے استعمال کیا جائے ۔ دوسری جگہ گورنمنٹ کوارٹرس ارم منزل کالونی ہے جو خستہ حالت میں ہے اسے منہدم کر کے 85 ایکڑ اراضی کو اس کیلئے دیا جائے ، ایک اور مقام مہدی پٹنم میں ہے جہاں فوج کے لوگ رہتے ہیں ۔ انہیں کوئی اور مقام الاٹ کر کے اس جگہ ہائی کورٹ عمارت بنائی جائے ۔ چوتھا مقام نہرو زوالوجیکل پارک ، بہادر پورہ ہے جو 150 ایکرس پر ہے اسے ہائی کورٹ بلڈنگ کیلئے الاٹ کیا جائے ۔ نیز ، زو کو جلد ہی حیدرآباد کے باہر کتور کے قریب منتقل کیا جانے والا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی تجویز رکھی کہ زو پارک کی 150 ایکر اراضی میں 25 ایکر ایڈوکیٹس کے رہائشی کوارٹرس کیلئے الاٹ کئے جائیں ۔۔