حکومت کو اشرار پر لگام کسناچاہئے۔ ماضی کیلئے ہندو اور مسلمان ذمہ دارنہیں : پروفیسر اخترالواسع
نئی دہلی: مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے سابق وائس چانسلر مشہور اسلامی دانشور پدم پروفیسر اخترالواسع نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر خوشی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر مسجد میں شیولنگ تلاش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آج کے ہندو اور مسلمان ماضی کے افعال اور اعمال کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہی وہ بات ہے جسے ہندوستانی مسلمان شروع سے کہتے آئے ہیں لیکن کچھ لوگ اپنے مفسدانہ مقاصد کے لیے انہیں سننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ پروفیسر واسع نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس سربراہ کی یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آر ایس ایس نے بابری مسجد کے بعد اس طرح کے کسی قضیہ اور تنازعہ میں پڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس جرأت مندانہ بیان کے بعد حکومت اور اس میں شامل افراد بھی ہوش کے ناخون لیں گے اور وہ تمام لوگ جو ہندوستان جنت نشان کو اپنی جارحانہ کوششوں سے یرغمال بنانا چاہتے ہیں، ان پر پابندی عائد کریں گے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان کو اگر آگے بڑھنا ہے، دنیا میں اپنی سبقت دکھانی ہے اور وشوا گرو بننا ہے تو اس کے لیے بنیادی شرط فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مستحکم امن و امان اور ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بودھ،جین اور پارسی سمیت سب کی یکجائی ہے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ ہمیں ماضی کے اندھیاروں سے نکل کر روشن مستقبل کی طرف بڑھنا چاہیے۔امید ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ آر ایس ایس سربراہ کے اس بیان کے بعد اپنی خاموشی توڑیں گے اور خیرسگالی اور ہم آہنگی کے لیے ضروری اقدامات کرتے ہوئے نفرت کے بیوپاریوں اور اشرار پر لگام کسیں گے۔