ہم انسانی امداد بھیجتے رہیں گے، مودی کا فلسطینی صدر کو تیقن

   

وزیراعظم کی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات چیت

نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات کی۔ مودی نے غزہ کے ہاسپٹل میں بمباری میں جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا۔اسرائیل-حماس جنگ کے درمیان مودی نے کہا کہ ہندوستان فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد بھیجتا رہے گا۔خطے میں دہشت گردی، تشدد اور بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اسرائیل – فلسطین کے مسئلہ پر ہندوستان کے دیرینہ اصولی موقف کا اعادہ کیا۔ مودی نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر سے بات کرنے کے بعد ان تاثرات کا اظہار کیا جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارت امور خارجہ کے ترجمان، ارندم باگچی نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی میں اہم شراکت کے ذریعے فلسطین اور فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرتا رہا ہے۔2002ء اور 2023 ء کے درمیان یو این میں مجموعی طور پر 29.53 ملین امریکی ڈالر کا تعاون کیا گیا ہے۔ ہندوستانی سالانہ شراکت کو دراصل 1.25 ملین ڈالر سے بڑھا کر 2018 میں پانچ ملین ڈالر کر دیا گیا تھا اور اگلے دو سالوں کے لیے پانچ ملین کی شراکت کا وعدہ کیا گیا ہے۔باگچی نے کہا کہ ہندوستان نے اسرائیل پر ہولناک دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہرے سے نمٹنے کے لیے ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور اس میں کوئی تردد نہیں کیا جاسکتا۔فلسطین پر ہم نے دو ریاستی حل کے قیام کے لیے براہ راست مذاکرات کے حق میں اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے۔ہندوستان نے شہریوں کی ہلاکتوں اور انسانی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اوربین الاقوامی انسانی قانون کی سختی سے پابندی پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم نے تصادم میں شہری ہلاکتیں کو ایک سنگین اور مسلسل تشویش کا معاملہ قرار دیا اور کہا کہ ملوث افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔