’ہمیں امیت شاہ کی تقریر نہیں، جواب چاہئے‘

   

امیت شاہ نے طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں، دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہئے: راہول

نئی دہلی، 12 اگست (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں ۔ راہول گاندھی نے چہارشنبہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے ۔ ہمیں اب امیت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے ۔ ہمیں جواب چاہیے ۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں امیت شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے ۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ امیت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے ۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے ۔ راہول گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ امیت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے ۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ امیت شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے ۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے ۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آجائے ۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے ۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔