ہندوستان بحریہ کی جامع مشق ٹروپکس اختتام پذیر

   

نئی دہلی : ہندوستانی بحریہ کی آپریشنل سطح کی اہم مشق ٹروپکس اس ہفتے بحیرہ عرب میں اختتام پذیر ہوئی جس میں تقریباً چار ماہ تک بحریہ کے ساتھ ساتھ فوج، فضائیہ اور کوسٹ گارڈ نے بھی اپنی جنگی مہارتوں کو تیز کیا۔جامع مشق میں سی ویجیل اور زمینی اور پانی کی مشق امپھیکس بھی شامل تھی۔مشق کا دائرہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سمیت بحر ہند میں شمال سے جنوب تک 4300 ناٹیکل میل اور مغرب میں خلیج فارس سے شمالی آسٹریلیا کے ساحل تک 35 ڈگری جنوبی عرض بلد پر تقریباً 5000 ناٹیکل میل پر پھیلا ہوا تھا۔ ٹروپکس -23 میں ہندوستانی بحریہ کے 70 جہازوں، چھ آبدوزوں اور 75 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا۔بحریہ کا انتہائی سخت آپریشنل مرحلہ ٹروپکس 23 کے آخری مرحلے کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ اس کا آغاز گزشتہ سال 2 نومبر میں ہوا تھا۔ مشق کے مشترکہ مرحلے کے ایک حصے کے طور پر وزیر دفاع نے 6 مارچ کو مقامی طیارہ بردار بحری جہاز وکرانت پر سمندر میں ایک دن گزارا۔ انہوں نے بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور آلات کا جائزہ لیا، جس میں بحریہ نے آپریشنل مہارتوں اور جنگی کارروائیوں کے مختلف پہلوؤں کا مظاہرہ کیا، جس میں مقامی ایل سی اے کی ڈیک ہینڈلنگ اور لائیو ویپن فائرنگ شامل ہے ۔ بحری بیڑے سے خطاب کرتے ہوئے وزیردفاع نے بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کی تعریف کی اور انہوں نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ بحریہ میری ٹائم ڈومین میں ملک کے قومی مفادات کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور کسی بھی ممکنہ دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنائے گی جس سے ہندوستان کے پرامن وجود کو خطرہ ہو۔وزیردفاع نے ’میک ان انڈیا‘پہل میں سب سے آگے رہنے اور ‘جنگی تیاری، ہم آہنگی اور ایک محفوظ مستقبل’ کے لئے خود انحصاری کی پہل کا فائدہ اٹھانے پر ہندوستانی بحریہ کی ستائش کی۔
پوار نے ڈی جی آئی پی آر گھپلہ میں قصوروار ٹھہرائے گئے عہدیداروں کی معطلی کا مطالبہ کیا
ممبئی : مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اجیت پوار نے جمعرات کو حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ڈی جی آئی پی آر گھپلے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس معاملے میں ملزمان کی حمایت کیے بغیر غلطی کرنے والے اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ جو وزیر اعلیٰ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ، کے پاس تقریباً 500 کروڑ روپے کے اشتہارات ہیں۔ فڈنویس حکومت کے دوران 500 کروڑ روپے مختلف محکموں نے وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بغیر دیئے ہیں۔