ہندوستان میں تعلیم بھی مہنگی، خانگی اسکولوں کی اضافی فیس

   

سالانہ فیس میں اروناچل پردیش سرفہرست، کرناٹک ، تلنگانہ اور ٹاملناڈو میں بھی اضافہ کا رجحان
حیدرآباد ۔29۔ مئی (سیاست نیوز) ہندوستان میں بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی مہنگی ہوچکی ہے۔ خانگی شعبہ کے تعلیمی اداروں میں ہر سال فیس میں بے تحاشہ اضافہ والدین اور سرپرستوں کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں مرکزی اور ریاستی حکومت نے خانگی تعلیمی اداروں میں فیس پر کنٹرول کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس قانون سازی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں ہر سال خانگی تعلیمی ادارے فیس میں 10 تا 30 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے من مانی پر اتر آئے ہیں۔ ملک بھر میں خانگی تعلیمی اداروں کی فیس کے نتیجہ میں والدین اور سرپرستوں پر سالانہ پڑنے والے بوجھ پر سروے کیا گیا۔ ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان میں خانگی تعلیمی اداروں پر ایک خاندان سالانہ اوسطاً 28.6 ہزار خرچ کرتا ہے ۔ گزشتہ سال کے سروے کے مطابق تعلیمی اخراجات میں اروناچل پردیش ، چندی گڑھ ملک میں سب سے زیادہ مہنگے ہیں۔ جنوبی ہند کی ریاستوں ٹاملناڈو ، کرناٹک اور تلنگانہ میں بھی خانگی تعلیمی اداروں میں زائد فیس وصول کی جاتی ہے۔ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اروناچل پردیش میں ہر سال اوسطاً 63.2 ہزار روپئے خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ چندی گڑھ میں سالانہ فیس تقریباً 79 ہزار روپئے درج کی گئی ہے۔ دارالحکومت دہلی میں خانگی اسکولس کا سالانہ خرچ 46.7 ہزار روپئے درج کیا گیا ہے۔ اوسط سالانہ خرچ والی ریاستوں میں ٹاملناڈو میں 44.2 ہزار روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ تلنگانہ میں 38.5 ہزار جبکہ آندھراپردیش میں 32.6 ہزار روپئے ایک اوسط خانگی اسکول کی تعلیم پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ سروے میں تعلیمی فیس کا تعین کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کارپوریٹ ادارے ہر سال مختلف عنوانات سے ہزاروں روپئے وصول کر رہے ہیں اور داخلے کے وقت ہی لاکھوں روپئے ڈونیشن حاصل کیا جارہا ہے۔1/k/m/b