انگریزوں سے نجات … فرقہ پرستی اور نفرت سے آزادی باقی
Gen-Z بے خوف … گونگے ملک کو زبان مل گئی
رشیدالدین
ہندوستان آزاد ہوگیا لیکن عوام کو حقیقی آزادی کا ابھی انتظار ہے۔ عوام کو جسمانی آزادی تو مل گیا لیکن فکری ، نظریاتی اور اظہار خیال کی آزادی انگریزوں سے نجات کے 80 برس بعد بھی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ملک نے حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار آزادی کا 80 واں جشن منایا۔ مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا گیا۔ حکومت نے عوام کو پھر ایک بار سبز باغ دکھائے۔ لال قلعہ کی فصیل سے وزیراعظم نریندر مودی نے دھواں دھار خطاب کیا۔ گھر گھر ترنگا ریالیاں منظم کی گئیں۔ آزادی کے اس جشن کے دوران عام آدمی یہ سوال کر رہا ہے کہ وہ آخر کس بات کا جشن منائیں۔ انگریزوں کا ملک سے چلے جانا ہی سب کچھ ہے تو پھر عام آدمی کو انگریزوں کے جانے سے کیا فائدہ ہوا۔ آزادی کے بعد حکومتوں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے، وہ کس حد تک پورے ہوئے ۔ عام آدمی کیلئے حقیقی معنوں میں آزادی اُس وقت ہوگی جب ہر گھر میں خوشحالی اور ہر چہرہ پر مسکراہٹ ہو۔ غربت ، بیروزگاری ، بیماری اور مہنگائی جیسے مسائل برقرار ہی نہیں بلکہ ان میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ انگریز تو ہندوستان سے چلے گئے لیکن انہوں نے سیاستدانوں کو ’’پھوٹ ڈالو حکومت کرو‘‘ کا جو فارمولہ پیش کیا، اس کے تحت مذہب ، ذات پات ، علاقہ ، رنگ و نسل اور زبان کے نام پر سماج میں پھوٹ پیدا کرتے ہوئے بعض سیاسی پارٹیاں اپنی روٹیاں سیک رہی ہیں۔ آزادی کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو ، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی اور پھر منموہن سنگھ دور حکومت میں ملک نے ہر شعبہ میں ترقی کی ۔ آبپاشی پراجکٹس کے ذریعہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور صنعتوں کے قیام کے ذریعہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے ۔ ہندوستان کانگریس دور حکومت میں نیوکلیئر طاقت بن گیا۔ آزادی کے 80 ویں جشن کے موقع پر بی جے پی اور سنگھ پریوار ملک کی ترقی کا سہرا مودی حکومت کے سر باندھنے میں مصروف ہیں۔ وزارت عظمیٰ پر مودی نے طویل عرصہ تک برقراری کے جواہر لال نہرو کے ریکارڈ کو توڑدیا لیکن کارناموں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مودی حکومت عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ نریندر مودی نے گزشتہ 12 برسوں میں کئی ایسے کارنامے انجام دیئے جن کا اعتراف نہ کرنا بد دیانتی ہوگی۔ مودی نے نفرت کا سماج میں جو بیج بویا اور آبیاری کی اس نے ملک کے عوام کو تقسیم کردیا ہے۔ انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی کاندھے سے کاندھا ملاکر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے رہے لیکن آج ان طبقات کو ایک دوسرے سے جدا کردیا گیا۔ حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست کو گاؤں گاؤں تک پہنچادیا گیا جس کے نتیجہ میں لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ نریندر مودی اقتدار میں ملک کو جن نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ان میں فرقہ پرستی ، نفرت ، عدم رواداری ، عدم مساوات ، ماب لنچنگ ، بلڈوزر، فسادات ، جھوٹے مقدمات ، فرضی انکاونٹرس ، مساجد کی آواز پر پابندی ، مدارس کی تعلیم پر روک ، کرپشن اور بدعنوانیاں شامل ہیں ۔ سماج میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر کچھ اس طرح گھول دیا گیا کہ مسلمانوں کو ہر سطح پر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ٹرین ، بس ، حتیٰ کہ فلائیٹ میں سفر بھی اب محفوظ نہیں رہا۔ مسلمانوں کی غذاؤں پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ٹرین میں کوئی مسلمان اپنا ٹفن کھولتا ہے تو ہر کوئی تحقیق کرنے لگتا ہے کہ اس میں بیف تو نہیں ۔ اگر ذرا بھی شک ہوجائے تو پھر مسافر کی خیر نہیں۔ حالیہ عرصہ میں ایک طیارے میں زعفرانی ذہنیت کے مسافر نے ایک مسلمان کے بازو بیٹھنے سے محض اس لئے انکار کردیا کہ مسلمان کے چہرہ پر داڑھی تھی ۔ جدوجہد آزادی کی تاریخ مسلمانوں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے لیکن مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش سے جوڑدیا جاتا ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ مسلمانوں کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے بجائے سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب امارات اور یمن جیسے خوشحال ممالک سے بھی جوڑکر دکھائیں۔ عرب ممالک سے ماضی میں کئی خاندان ہندوستان آکر بس گئے اور ان کی نسل ہندوستانی ہے۔ خوشحال ممالک سے مسلمانوں کو نفرتی عناصر ہرگز نہیں جوڑیں گے کیونکہ وہ لفظ خوشحالی کو مسلمانوں کے قریب دیکھنا نہیں چاہتے اس لئے ناکام اور زوال پذیر مملکتوں سے جوڑ کر اپنی دلی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ مسلمان تو ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن تقسیم کے بعد پاکستان سے منتقل ہونے والے ایل کے اڈوانی کو ملک کے نائب وزیراعظم کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔ یہ وہی اڈوانی ہیں جنہوں نے محمد علی جناح کی قبر پر حاضری دی اور انہیں سیکولر قرار دیا تھا۔
جدوجہد آزادی کی تاریخ مسلمانوں کی قربانیوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ علمائے کرام نے سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا ۔ ریشمی رومال کی تحریک سے علماء کی وابستگی ہر کسی پر عیاں ہے۔ انقلاب زندہ باد اور سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، جیسے انقلابی نعروں اور نغموں کے خالق بھی مسلمان ہی ہیں۔ 1921 میں بسمل عظیم آبادی جن کا حقیقی نام سید شاہ محمد حسن تھا، انہوں نے سرفروشی کی تمنا کا انقلابی گیت لکھا ۔ جسے رام پرساد بسمل نے شہرت عطا کی اور یہ مجاہدین آزادی کا نعرہ بن گیا تھا۔ حوالدار عبدالحمید نے دشمن کے ٹینکوں کو اڑانے کا کام کیا۔ بریگیڈیئر محمد عثمان نے 1948 کی ہند۔ پاک جنگ میں ملک پر اپنی جان نچھاور کردی۔ ایر چیف مارشل ادریس حسن لطیف کو کون فراموش کرسکتا ہے جو 1978-81 کے دوران ملک کے 10 ویں چیف آف ایر اسٹاف رہے ۔ حیدرآبادی سپوت ادریس حسن لطیف نے ہندوستانی فضائیہ کے استحکام میں اہم رول ادا کیا۔ اے پی جے عبدالکلام جنہیں میزائیل میان کہا جاتا ہے ، انہوں نے ہندوستان کی دفاعی طاقت کو عصری میزائیلس کے ذریعہ مستحکم کیا۔ حال ہی میں آپریشن سندور کے دوران کرنل صوفیہ قریشی نے پاکستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں جس بہادری کا مظاہرہ کیا ، اسے دنیا بھولی نہیں ہے۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور دفاعی طاقت کے استحکام میں مسلمانوں کے رول کے باوجود ان کی حب الوطنی پر شبہ کیا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے دفاعی راز دشمنوں کے حوالے کرنے میں بھی مسلمانوں سے زیادہ غیر ہیں۔ کس نے دیا اس ملک کو لال قلعہ ، کس نے دیا محبت کی نشانی تاج محل ، پھر بھی ہم سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں۔ مودی حکومت نے گھر گھر ترنگا مہم کا اعلان کیا ہے جس پر مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہلے گھر گھر روٹی اور روزی کا انتظام کرنا چاہئے۔ اگر یہ مل گیا تو لوگ خود خوشی سے ترنگا اٹھالیں گے۔ انہیں حکومت کی اپیل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ حکومت کے اشارہ پر الیکشن کمیشن نے SIR مہم کے ذریعہ ملک میں مسلمانوں کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ بہار ، مغربی بنگال اور آسام میں لاکھوں مسلمانوں کو رائے دہی کے حق سے محروم کردیا گیا۔ مرکز میں اقتدار کے 12 سال کی تکمیل پر مودی ۔امیت شاہ خود کو ناقابل تسخیر تصور کرنے لگے تھے لیکن Gen-Z نے کاکروچوں کی صورت میں حکومت کے ایوانوں میں خوف اور دہشت کا ماحول پیداکردیا ہے۔ جنتر منتر پر Gen-Z کے احتجاج کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ گونگا دیش آزاد ہوچکا ہے اور گونگے دیش کو جنتر منتر کے ذریعہ زبان مل گئی ہے۔Gen-Z سے حاصل ہونے والی یہ زبان اب رکنے والی نہیں۔ طلبہ اور نوجوانوں میں حکومت کا خوف ختم ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں ملک کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام آدمی کو بھی زبان عطا کی ہے۔ حکومت کے خوف کے خاتمہ کا نتیجہ ہے کہ Ge-Z نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کے اعلان کو مکمل کر دکھایا۔ اسی طرح جھارکھنڈ میں اسمبلی تک مارچ کرتے ہوئے Gen-Z نے بے خوفی کا اعلان کیا ہے ۔ طلبہ اور نوجوان اگر ٹھان لیں تو کوئی طاقت بھی انہیں روک نہیں پائے گی۔ مودی حکومت کو ڈر اس بات کا ہے کہ جن طلبہ کے سہارے اقتدار حاصل کیا گیا تھا، کہیں وہی Gen-Z انہیں اقتدار سے بیدخل نہ کردیں۔ پارلیمنٹ میں حکومت پر Gen-Z کا خوف صاف طور پر دکھائی دیا اور کاکروچ جنتا پارٹی نے عنقریب جنتر منتر سکنڈ سیزن کا اعلان کرتے ہوئے ہلچل مچادی ہے۔ اب تو Gen-Z کے ساتھ Gen-Alpha بھی میدان میں ہے۔ Gen-Z پر حکومت کا خوف ختم ہوگیا لیکن گودی میڈیا پر مودی حکومت کا ڈر ابھی بھی برقرار ہے۔ بشیر بدر نے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کچھ یوں کی ہے ؎
ہندوستان کا سچا وفادار میں ہی ہوں
قبروں سے پوچھ اصلی زمیندار میں ہی ہوں
دریا کے ساتھ وہ تو سمندر میں بہہ گیا
مٹی میں مل کے مٹی کا حقدار میں ہی ہوں