سرکاری تنصیبات پرحملوں کیلئے یمنی فورسس کے الزامات مسترد، متحدہ عرب امارات کا بیان
صنعا،31اگست(سیاست ڈاٹ کام) سعودی اتحاد میں شامل متحدہ عرب امارات (یو اے ای)پر یمنی سرکاری فورسز نے حملہ کا الزام لگایا ہے جس کی یو اے ای نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہدف شدت پسند تھے جو اتحادی فوج کیلئے خطرہ ہیں۔خبررساں ایجنسی کے مطابق عرب امارات فوج نے بدھ اور جمعرات کو عدن میں فضائی حملہ کئے تھے ، متحدہ عرب امارات کے وزارت خارجہ کے مطابق دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ مسلح گروپوں کو نشانہ بنایا گیا جو یمنی فوج کا حصہ ہیں، مسلح گروہ سعودی فوجی اتحاد کے لئے خطرہ ہیں۔عالمی حمایت یافتہ منصور ہادی حکومت نے یو اے ای کا موقف مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ فضائی حملہ علیحدگی پسندوں کی حمایت میں کیے گئے جن میں سرکاری فوج کے 40 اہلکار ہلاک اور 70 شہری زخمی ہوگئے ۔یواے ای سرکاری فوج کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے ،
یمنی صدر منصورہادی کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں یو اے ای کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور ملی بھگت شامل ہے ، انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں سعودی عرب مداخلت کرے ۔خبررساں ایجنسی کے مطابق یواے ای سعودی فوجی اتحاد میں شامل ہے تاہم وہ شدت پسندوں کے خلاف زیرو ٹالرینس رکھتا ہے ، یواے ای سمجھتا ہے کہ یمنی فوج کا ایک حصہ شدت پسند تنظیم الاصلاح پر مشتمل ہے جو اخوان المسلمون کے قریب ہے ۔یمن کی راجدھانی صنعا سمیت شمالی حصے پر حوثیوں کے قبضہ کے بعد منصور ہادی حکومت عدن منتقل ہوگئی تھی، تاہم وہاں اسے علیحدگی پسند تنظیم ‘سدرن ٹرانزیشنل کونسل’ سے سامنا ہے ، علیحدگی پسندوں نے جمعرات کو عدن کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے اور ملحقہ صوبوں ابیان اور شبوا پرقبضہ کی کوشش کر رہے ہیں۔ایس ٹی سی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو عدن پر قبضے کی لڑائی میں کئی ایسے افراد پکڑے گئے ہیں جوعالمی سطح پر انتہائی مطلوب ہیں،