بیمار مسیحا کی دوا کون کرے گا
امید پہ ہر بار جیا کون کرے گا
اترپردیش میں انسانیت شرمسار کرنے والا اور انتہائی اخلاق سوز واقعہ پیش آیا جس میں عصمت ریزی کے ملزم کی جیل سے ضمانت پر رہائی کے موقع پر اس کا شاندار جلوس نکالا گیا ۔ ایک ہیرو کی طرح اس کا استقبال کیا گیا اور اس کی گلپوشی کی گئی ۔ عصمت ریزی کا یہ ملزم اترپردیش میں غآزی آباد کی جیل سے رہا ہوا تھا جب عدالت سے اسے نو ماہ کے بعد ضمانت حاصل ہوئی تھی ۔ یہ ملزم کوئی عام شخص بھی نہیں ہے بلکہ ہندو یووا واہنی سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ وہی تنظیم ہے جو ہندو حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کا دعوی کرتی ہے اور سماج میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ۔ ملزم کا نام سشیل پرجا پتی ہے اور وہ سابق میں ہندو یووا واہنی سے تعلق رکھتا تھا ۔ قانون کی ایک طالبہ کی عصمت ریزی کے الزام میں اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا ۔ جب وہ جیل سے ضمانت پر رہا ہوا تو اس کے حامیوں اور ساتھیوں نے کسی ہیرو کی طرح اس کا استقبال کیا ۔ وہ سفید لباس میں ملبوس تھا اور گلے میں ایک پٹا ڈالے ہوئے تھا جیسے کوئی بڑا سیاسی لیڈر ہو ۔ اس نے جیل سے رہائی کے فوری بعد عملی طور پر روڈ شو منعقد کیا جس طرح انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدوار کرتے ہیں۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل بھی ہوگیا جس کے بعد کئی گوشوں سے تنقیدیں کی جا رہی ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ عصمت ریزی کے ملزم کے ساتھیوں اور حامیوں نے اسے کندھے پر بٹھاکر جلوس نکالا اور اس کے حق میںنعرہ بازی بھی کی گئی ۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جو سارے معاشرہ کیلئے شرمندگی کا باعث کہا جاسکتا ہے ۔ عصمت ریزی جیسے گھناؤنے الزام میں جیل جانے اور ضمانت پر رہائی کے بعد اس طرح ہیرو جیسا استقبال کرنا اور اسے کندھوں پر بٹھاکر جلوس نکالنا ذہنی پستی اور عدم حساسیت کی علامت ہے ۔ عصمت ریزی کوئی معمولی الزام نہیں ہے اور انتہائی گھناؤنا اور شرمناک جرم ہے ۔ اس طرح کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو سماج میں ذلیل و رسواء کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ہیرو کی طرح استقبال کرنے کی نہیں ۔ ایسے عناصر کو شرمندہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جشن منانے کی نہیں ۔
اب پولیس کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ ان ویڈیوز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ یہ واقعہ اترپردیش میں پیش آیا ہے ۔ عصمت ریزی کا ملزم ہندو یووا واہنی کا سابق کارکن ہے ۔ یہ وہی اترپردیش ہے جہاں معمولی باتوں پر اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں اور مکانات کو منہدم کردیا جاتا ہے ۔ ان پر بلڈوزر چلادیا جاتا ہے اور انہیں سماج میں شرمسار کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا ۔ گجرات میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں جہاں معمولی سی شکایات پر مسلم نوجوانوں کو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر کھلے عام پریڈ کروائی گئی ہے ۔ اس کے برخلاف ہندو یووا واہنی کے سابق کارکن کو عصمت ریزی جیسے سنگین الزام میں ضمانت پر رہائی کے بعد ہیرو جیسا استقبال فراہم کیا جا رہا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی حکومت اس ملزم کے مکان پر بلڈوزر چلائے گی ۔ عصمت ریزی کے ملزم کا استقبال کرنے اور اسے ہیرو کی طرح پیش کرنے والے بیمار ذہنیت کے عناصر کے مکانات پر بلڈوزر چلایا جائے گا ؟ ۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ سماج میں شرمندگی اور رسوائی کا سبب بننے والے اس طرح کے عناصر کو نیم برہنہ کرتے ہوئے پریڈ کروائی جانی چاہئے ۔ ان کے چہروں پر کالک پوتی جانی چاہئے اور ان کے اور ان کا ساتھ دینے اور ان کا جشن منانے والوں کے گھروں اور دوکانات پر بلڈوزر چلایا جانا چاہئے ۔
اتر پردیش پولیس کو اور وہاں کی حکومت کو اس واقعہ کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ ملزم سشیل پرجاپتی کی ضمانت منسوخ کروائی جانی چاہئے ۔ اس کی رہائی کا جشن منانے والوں کے خلاف مقدمات درج کئے جانے چاہئیں۔ انہیں بھی سماج کے سامنے ذلیل و رسواء کرنا چاہئے ۔ ان کا بھی پریڈ کروائی جانی چاہئے اور ایسے گھناؤنے کام کرنے والوں کا حقیقی چہرہ بے نقاب کیا جانا چاہئے تاکہ دوسروں کیلئے یہ لوگ باعث عبرت بن سکیں۔ یو پی پولیس اور حکومت کو اپنے دوہرے معیارات ترک کرتے ہوئے اس معاملہ میں اپنی مستعدی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مجرمین کو ایک سخت پیام دیا جاسکے ۔